Saturday, May 5, 2018

حدیث ”الجنة تحت أقدام الأمهات“ کا تحقیقی جائزہ

حدیث ”الجنة تحت أقدام الأمهات“ کا تحقیقی جائزہ

تحقیق: عمر اثری بن عاشق علی اثری
​

”الجنة تحت أقدام الأمهات“ کے الفاظ کے ساتھ ایک حدیث لوگوں کے درمیان بہت مشہور ہے۔ زیر نظر تحریر اسی کی تحقیق پر مشتمل ہے۔

حدیث کا متن:
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْجَنَّةُ تَحْتَ أَقْدَامِ الْأُمَّهَاتِ»
تخریج: مسند الشهاب القضاعي ط مؤسسة الرسالة - بيروت: 1/102 (رقم الحدیث: 119)، الفوائد لأبي الشيخ الأصبهاني ط دار الصميعي للنشر والتوزيع، الرياض: 58 (رقم الحدیث: 25)، التاريخ لأبي الشيخ الأصبهاني: ص 253 (كما في سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة للألباني ط دار المعارف، الرياض - الممكلة العربية السعودية: 2/59 رقم الحديث: 593)، الرباعيات لابي بكر الشافعي: 2/25/1 (كما في سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة للألباني ط دار المعارف، الرياض - الممكلة العربية السعودية: 2/59 رقم الحديث: 593)، الكنى والأسماء للدولابي ط دار ابن حزم - بيروت/ لبنان: 3/1091 (رقم الحدیث: 1911)، الترغيب والترهيب لقوام السنة ط دار الحديث - القاهرة: 1/281 (رقم الحدیث: 448)، موجبات الجنة لابن الفاخر ط مكتبة عباد الرحمن: 110 (رقم الحديث: 143)، طبقات المحدثين بأصبهان والواردين عليها ط مؤسسة الرسالة - بيروت: 3/568، الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع للخطيب البغدادي ط مكتبة المعارف - الرياض: 2/231 (رقم الحدیث: 1702)، تفسير الثعلبي ط دار إحياء التراث العربي، بيروت - لبنان: 7/272، البر والصلة لابن الجوزي ط مؤسسة الكتب الثقافية، بيروت - لبنان: ص 66 (رقم الحدیث في الباب: 8 وفي الكتاب: 44)، أحاديث وحكايات للسلفي ط مخطوط نُشر في برنامج جوامع الكلم المجاني التابع لموقع الشبكة الإسلامية: ص 30 (رقم الحدیث: 22)، الإيماء إلى زوائد الأمالي والأجزاء ط أضواء السلف: 1/370 (رقم الحديث: 428)
حدیث کی سند: یہ روایت مذکورہ تمام مصادر میں «منصور بن المہاجر عن ابی النضر الابّار عن انس بن مالک عن النبی ﷺ» کے طریق سے مروی ہے۔
ترجمہ: انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے۔

حدیث کا حکم: یہ حدیث اس سند سے ضعیف ہے اور وجہ ضعف یہ ہے کہ اسمیں ”ابو النضر الابار“ نامی راوی مجہول ہے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لم أجد له ترجمة في شيء من كتب الرجال(1)
ترجمہ: 
مجھے کتب رجال میں سے کسی میں بھی اسکا ترجمہ نہیں ملا۔

تنبیہ: کئی محدثین نے اس حدیث کے ایک اور راوی ”منصور بن المہاجر“ پر کلام کیا ہے اور اس کو مجہول قرار دیا ہے، چنانچہ علامہ زرکشی، علامہ شیبانی اور علامہ سخاوی رحمہم اللہ بیان کرتے ہیں:
(ابو الفضل) ابن طاہر رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اس روایت میں منصور اور ابو النضر غیر معروف راوی موجود ہیں اور یہ حدیث منکر ہے۔ (2)

علامہ عجلونی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اس میں منصور اور ابو النضر غیر معروف راوی موجود ہیں۔ (3)

علامہ محمد درویش حوت البیرونی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اس میں مجہول راوی موجود ہیں، لہذا یہ منکر ہے۔ (4)

لیکن صحیح یہ ہے کہ اس حدیث کی علت صرف اور صرف ابو النضر ہے۔ منصور بن مہاجر اس حدیث کی علت نہیں ہیں کیونکہ ان سے ثقات کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے اور محدثین کی ایک جماعت کا موقف یہ ہے کہ اگر مجہول سے ثقات کی ایک جماعت نے روایت کیا ہو اور اسکی مرویات کو منکر بھی نہ قرار دیا گیا ہو تو اسکی روایت قبول کی جا سکتی ہے۔ اس موقف کے قائلین میں امام بزار، امام ذہبی، حافظ ابن کثیر، حافظ عراقی اور ابن حجر عسقلانی رحمہم اللہ وغیرہ ہیں۔ بلکہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے اسکو جمہور کی طرف منسوب کیا ہے۔ لہذا زیر بحث راوی ”منصور بن مہاجر“ قابل استشہاد ہے۔ اسی لئے علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس راوی پر ایک جگہ کلام کرتے ہوئے فرمایا:
منصور بن مهاجر، روى عنه جمع من الثقات منهم يعقوب بن شيبة، ولم يذكروا فيه توثيقا، ولذلك قال الحافظ في ”التقريب“: ”مستور“
قلت: فمثله يستشهد به على أقل الدرجات (5)
ترجمہ: منصور بن مہاجر سے ثقات کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے ان میں سے یعقوب بن شیبہ بھی ہیں۔ اور لوگوں نے منصور کے سلسلے میں کوئی توثیق نہیں ذکر کی ہے، اسی لئے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ”تقریب“ میں منصور کے متعلق فرمایا کہ ”یہ مستور ہے۔“
(علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں) میں کہتا ہوں کہ اس (منصور) جیسے (راوی) سے کم سے کم استشہاد کیا جا سکتا ہے۔

یہی بات علامہ غماری رحمہ اللہ نے بھی کہی ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
ما نقله عن ابن طاهر من أن منصور بن مهاجر وأبا النضر الأبار لا يعرفان باطل، فمنصور بن مهاجر معروف، روى عنه يعقوب بن شيبة ومحمد بن عبد الملك الدقيقى والحسن بن على الحلوانى ومحمد بن إسماعيل الحسانى وإسحاق بن وهب العلاف وعلى بن إبراهيم بن عبد المجيد وأبو هاشم سهم بن إسحاق بن إبراهيم وعلى بن إبراهيم الواسطى وآخرون، وروى له ابن ماجه في التفسير وله ترجمة في التهذيب (6)
ترجمہ: 
ابن طاہر رحمہ اللہ کے حوالے سے (شارح نے) جو یہ بات نقل کی ہے کہ منصور اور ابو النضر غیر معروف ہیں تو یہ باطل ہے۔ (کیونکہ) منصور بن مہاجر معروف ہے۔ اس سے یعقوب بن شیبہ، محمد بن عبد الملک الدقیقی، حسن بن علی الحلوانی، محمد بن اسماعیل الحسانی، اسحاق بن وہب العلاف، علی بن ابراہیم بن عبد المجید، ابو ہاشم سہم بن اسحاق بن ابراہیم، علی بن ابراہیم الواسطی اور دوسرے لوگوں نے روایت کیا ہے اور ابن ماجہ رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں اس (منصور) سے روایت لی ہے۔ (مزید یہ کہ) اسکا ترجمہ ”تہذیب“ میں موجود ہے۔

یہاں یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ علامہ غماری رحمہ اللہ نے ”ابو النضر الابار“ کو بھی معروف بلکہ ثقہ قرار دے دیا ہے۔ علامہ غماری رحمہ اللہ کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں:
وأبو النضر الأبار هو جرير بن حازم كما ذكره الدولابى في الكنى، وهو ثقه من رجال الجميع (7)
ترجمہ: 
ابو النضر الابار کا نام جریر بن حازم ہے، جیسا کہ امام دولابی رحمہ اللہ نے (اپنی کتاب) ”الکنی“ میں ذکر کیا ہے اور یہ کتب ستہ کے ثقہ راوی ہیں۔

عرض ہے کہ علامہ غماری رحمہ اللہ سے یہاں سہو ہوا ہے۔ انھوں نے ابو النضر الازدی العتکی کو ابو النضر الابار سمجھ لیا ہے، کیونکہ ابو النضر جریر بن حازم نام کے دو راوی ہیں۔ ان میں سے ایک کا لقب ”الابار“ ہے جبکہ دوسرے کا ”الازدی العتکی“ ہے۔ جیسا کہ الکنی والاسماء للدولابی میں درج ہے۔ (8)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس حدیث کی علت صرف اور صرف ”ابو النضر الابار“ ہے جیسا کہ وضاحت کی جا چکی ہے۔
فائدہ نمبر1: جہاں بھی (مثلا تفسیر ثعلبی وغیرہ میں) ابو النضر کی جگہ ابو النصر (صاد مہملہ کے ساتھ) ہے وہ غلطی ہے۔ جیسا کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے وضاحت کی ہے۔ (واضح رہے کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے تفسیر ثعلبی کے متعلق وضاحت نہیں کی ہے. بلکہ انھوں نے ”صفۃ الجنۃ لابی نعیم“ کے محقق پر تنقید کی ہے)۔ (9)

فائدہ نمبر 2: جن لوگوں نے (مثلا دیلمی، زرکشی، ابن المبرد اور سیوطی رحمہم اللہ وغیرہ نے) اس حدیث کو صحیح مسلم کی طرف منسوب کیا ہے ان سے سہو ہوا ہے۔ چنانچہ علامہ مناوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وأعجب من ذلك أن المصنف في الدرر عزاه إلى مسلم باللفظ المذكور من حديث النعمان بن بشير فيا له من ذهول ما أبشعه (10)
ترجمہ:
 اور اس سے بھی زیادہ تعجب خیز بات یہ ہے کہ مصنف نے ”درر“ میں اس حدیث کو مسلم کی طرف مذکورہ لفظ کے ساتھ نعمان بن بشیر کی حدیث سے منسوب کیا ہے۔ یہ انکی بہت بھیانک چوک ہے۔

اور علامہ درويش الحوت فرماتے ہیں:
وَمن عزاهُ لمُسلم فقد ذهل (11)
ترجمہ: 
جس نے بھی اس حدیث کو امام مسلم رحمہ اللہ کی طرف منسوب کیا ہے اس سے چوک ہوئی ہے۔

مذکورہ بالا تفاصیل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ حدیث اس سند سے ضعیف ہے اور اسکی علت صرف ”ابو النضر الابار“ ہے۔ چنانچہ علماء کی ایک جماعت نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے جن کے نام حسب ذیل ہیں:
1) ابن القیسرانی (ابن طاہر) (12)

2) ابن تیمیہ (13)

3) زرکشی (14)

4) سخاوی (15)

5) عبد الرحمن بن علی شیبانی شافعی اثری (16)

6) محمد طاہر بن علی ہندی فتنی (17)

7) مناوی (18)

8) مرعي بن يوسف بن أبى بكر بن أحمد الكرمى (19)

9) عجلونی (20)

10) صنعانی (21)

11) عبد القادر بن بدران الدومی الحنبلی(22)

12) علامہ البانی (23)

13) ابو اسحاق الحوینی (24)

لیکن سنن نسائی، ابن ماجہ اور طبرانی وغیرہ میں صحیح سند سے روایت موجود ہے، جو زیر بحث حدیث کو تقویت دیتی ہے، جس کی بنا پر زیر بحث حدیث حسن لغیرہ کے درجہ تک پہونچ جاتی ہے۔ وہ روایت اس طرح سے ہے:
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السَّلَمِيِّ، أَنَّ جَاهِمَةَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَشِيرُكَ، فَقَالَ: هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَالْزَمْهَا، فَإِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ رِجْلَيْهَا
ترجمہ: معاویہ بن جاہمہ سلمی سے روایت ہے کہ جاہمہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں جہاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، اور آپ کے پاس آپ سے مشورہ لینے کے لئے حاضر ہوا ہوں، آپ ﷺ نے (ان سے) پوچھا: کیا تمہاری ماں موجود ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: انہیں کی خدمت میں لگے رہو، کیونکہ جنت ان کے دونوں قدموں کے نیچے ہے۔
یہ حدیث سنن نسائی (رقم الحديث: 3104)، ابن ماجہ (رقم الحديث: 2781) اور حاکم (ط دار الحرمين: 2/125 رقم الحديث: 2557) میں ”حجاج بن محمد عن ابن جریج بہ“ کے طریق سے مروی ہے اور امام حاکم رحمہ اللہ نے اسکی تصحیح کی ہے جبکہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے انکی موافقت کی ہے۔ محدث عصر علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ اس طرح زیر بحث حدیث کو مذکورہ بالا حدیث سے تقویت ملتی ہے اور وہ حسن لغیرہ کے درجہ تک پہونچ جاتی ہے۔ چنانچہ علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے (25) جبکہ زرقانی نے اسے صحیح کہا ہے۔ (26)

فائدہ: جہاد میں شامل ہونے کی بجائے ماں کی خدمت کا حکم صحابی رسول جاہمہ رضی اللہ عنہ کے خاص ظروف و حالات کی بنا پر تھا، کیونکہ یہ حکم نبی اکرم ﷺ نے ہر اس صحابی کو نہیں دیا جن کی (بوڑھی) والدہ زندہ تھیں اور وہ جہاد میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ اگر یہ بات سب کے لئے ہوتی تو ہر وہ صحابی جن کی والدہ باحیات تھیں کبھی جہاد میں شامل نہ ہو پاتے۔

تنبیہ بلیغ:
زیر بحث حدیث ”الجنة تحت أقدام الأمهات“ کچھ زیادتی کے ساتھ «موسى بن محمد بن عطاء» کے طریق سے مروی ہے۔

حدیث کا متن:
عنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَال: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَنَّةُ تَحْتَ أَقْدَامِ الأمهات من شئن أدخلن، ومَنْ شئن أخرجن
ترجمہ: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ماؤں کے قدموں تلے جنت ہے وہ جسے چاہیں گی (جنت میں) داخل کر لیں گی اور جسے چاہیں گی باہر نکال دیں گی۔
تخریج: الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي ط دار الكتب العلمية - بيروت-لبنان: 8/64، ميزان الاعتدال في نقد الرجال للذهبي ط دار المعرفة للطباعة والنشر، بيروت - لبنان: 4/220، لسان الميزان لابن حجر ط مكتب المطبوعات الإسلامية: 8/217، ذخيرة الحفاظ لابن القيسراني ط دار السلف - الرياض: 2/1232 (رقم الحديث: 2644)

فائدہ: علامہ البانی رحمہ اللہ نے سلسلہ الضعیفہ (27) میں اور مسند شہاب قضاعی کے محقق حمدی عبد المجید السلفی نے مسند شہاب قضاعی کی تحقیق (28) میں اس حدیث کے متعلق لکھا ہے کہ اسکی تخریج امام عقیلی نے بھی کی ہے۔ لیکن کافی تلاش کے باوجود امام عقیلی رحمہ اللہ کی کتاب ”الضعفاء الکبیر“ میں یہ روایت نہیں مل سکی۔
یہاں علامہ البانی رحمہ اللہ کے بشمول جن لوگوں نے اسکی تخریج کو ”الضعفاء الکبیر للعقیلی“ کی طرف منسوب کیا ہے ان کو سہو لاحق ہوا ہے اور اسکا اقرار خود علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی کیا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
وقد كنت اعتمدت عليه هناك فعزوته إلى العقيلي، والآن، فقد تبين أن هذا العزو خطأ؛ فإن الحديثين لم يروهما العقيلي مطلقاً؛ فلعله سقط من قلم الحافظ أو الناسخ كلمة ابن عدي؛ فإن الصواب: ”وقال ابن عدي: منكر الحديث“ (29)
ترجمہ: 
میں نے انھیں پر اعتماد کرتے ہوئے اس حدیث کو عقیلی کی طرف منسوب کر دیا تھا، لیکن اب مجھ پر یہ واضح ہو چکا ہے کہ یہ نسبت غلط تھی کیونکہ ان دونوں روایات (حدیث ”الجنة تحت أقدام الأمهات“ اور حدیث ”إن للمساكين دولة“) کو امام عقیلی نے سرے سے روایت ہی نہیں کیا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ حافظ یا ناسخ کے قلم سے کلمہ ”ابن عدی“ ساقط ہو گیا ہو، کیونکہ صحیح یہ ہے کہ ”ابن عدی نے کہا: منکر الحدیث“۔

حدیث کا حکم: یہ روایت اس سند سے موضوع ہے۔ کیونکہ اسکی سند میں ایک راوی ”موسی بن محمد بن عطاء الدمیاطی“ ہے جس پر سخت جرحیں کی گئی ہیں۔ چانچہ لسان المیزان (30) میں ہے:
ابو زرعہ اور ابو حاتم نے اسکی تکذیب کی ہے۔
نسائی فرماتے ہیں:
ليس بثقة

دارقطنی وغيره فرماتے ہیں:
متروك

ابن حبان فرماتے ہیں:
لا تحل الرواية عنه؛ كان يضع الحديث

ابن عدی فرماتے ہیں:
كان يسرق الحديث

ابن يونس فرماتے ہیں:
روى عن مالك موضوعات، وهو متروك الحديث

عبد الغنی بن سعيد فرماتے ہیں:
ضعيف

ابو نعیم الاصبہانی فرماتے ہیں:
لا شيء

منصور بن اسماعیل بن ابی قرہ فرماتے ہیں:
كان يضع الحديث على مالك والموقري

اسی لئے علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث پر موضوع ہونے کا حکم لگایا ہے۔ (31)

خلاصہ التحقیق:
سابقہ تفصیل کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ حدیث اپنی سند سے ضعیف ہے، البتہ دوسری شاہد حدیث سے تقویت کی بنا پر حسن لغیرہ کے درجہ تک پہونچتی ہے، لیکن ”من شئن أدخلن، ومَنْ شئن أخرجن“ کے اضافہ کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنہما والی حدیث موضوع ہے۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب۔

حواشی:
(1) سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة للألباني ط دار المعارف، الرياض - الممكلة العربية السعودية: 14/938 (رقم الحدیث: 6903)
(2) اللآلئ المنثورة في الأحاديث المشهورة المعروف بالتذكرة في الأحاديث المشتهرة للزركشي ط دار الكتب العلمية: ص 193، تمييز الطيب من الخبيث فيما يدور على ألسنة الناس من الحديث لابن الديبع الشيباني ط دار الكتاب العربي بيروت - لبنان: ص 66، مقاصد الحسنة في بيان كثير من الأحاديث المشتهرة على الألسنة للسخاوي ط داو الكتاب العربي: ص 287 (رقم الحديث: 373)
(3) كشف الخفاء ومزيل الإلباس عما اشتهر من الأحاديث على ألسنة الناس ط مؤسسة الرسالة: 1/401 (رقم الحديث: 1078)
(4) أسنى المطالب في أحاديث مختلفة المراتب للحوت ط دار الكتب العلمية - بيروت: 121 (رقم الحدیث: 544)
(5) سلسلة الأحاديث الصحيحة للألباني ط مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض: 4/630 (رقم الحديث: 1979)
(6) المداوي لعلل الجامع الصغير وشرحي المناوي للغماري ط دار الكتبي: 3/370
(7) حوالہ سابق۔
(8) الكنى والأسماء للدولابي ط دار ابن حزم - بيروت/ لبنان: 3/1091 (رقم الحدیث: 1911)
(9) تفصیل کے لئے دیکھیں: سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة للألباني ط دار المعارف، الرياض - الممكلة العربية السعودية: 14/938 رقم الحدیث: 6903
(10) فيض القدير شرح الجامع الصغير للمناوي ط المكتبة التجارية الكبرى - مصر: 3/361 رقم الحدیث: 3642
(11) أسنى المطالب في أحاديث مختلفة المراتب للحوت ط دار الكتب العلمية - بيروت: 121 رقم الحدیث: 544
(12) جیسا کہ کئی محدثین نے انکا قول نقل کیا ہے، البتہ مجھے انکی مطبوع کتب میں یہ قول نہیں مل سکا۔
(13) أحاديث القصاص ط المكتب الإسلامي: 90 (رقم الحديث: 70
(14) اللآلئ المنثورة في الأحاديث المشهورة المعروف بالتذكرة في الأحاديث المشتهرة للزركشي ط دار الكتب العلمية: ص 193
(15) مقاصد الحسنة في بيان كثير من الأحاديث المشتهرة على الألسنة للسخاوي ط داو الكتاب العربي: ص 287 (رقم الحديث: 373)
(16) تمييز الطيب من الخبيث فيما يدور على ألسنة الناس من الحديث لابن الديبع الشيباني ط دار الكتاب العربي بيروت - لبنان: ص 66
(17) تذكرة الموضوعات للفتني ط دارة الطباعة المنيرية: ص 202
(18) فيض القدير شرح الجامع الصغير للمناوي ط المكتبة التجارية الكبرى - مصر: 3/361 رقم الحدیث: 3642
(19) الفوائد الموضوعة في الأحاديث الموضوعة ط دار الوراق - الرياض: ص 120 (رقم الحديث: 147)
(20) كشف الخفاء ومزيل الإلباس عما اشتهر من الأحاديث على ألسنة الناس ط مؤسسة الرسالة: 1/401 (رقم الحديث: 1078)
(21) التنوير شرح الجامع الصغير للصنعاني ط دار السلام - الرياض: 5/301 (رقم الحديث: 3626)
(22) شرح كتاب الشهاب ط وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية - الكويت: ص 264 (رقم الحديث: 370)
(23) ضعيف الجامع الصغير وزيادته للألباني ط المكتب الإسلامي: ص 394 (رقم الحديث: 2666)، حقوق النساء في الإسلام وحظهن من الإصلاح المحمدي العام لمحمد رشيد رضا ط المكتب الإسلامي: ص 194
(24) یوٹیوب:

(25) الجامع الصغير للسيوطي ط طبعة قديمة: 1/363
(26) مختصر المقاصد الحسنة للزرقاني ط المكتب الإسلامي: ص 109 (رقم الحديث: 348)
(27) سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة للألباني ط دار المعارف، الرياض - الممكلة العربية السعودية: 2/59، رقم الحديث: 593
(28) مسند الشهاب القضاعي ط مؤسسة الرسالة - بيروت: 1/102، رقم الحدیث: 119
(29) سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة للألباني ط دار المعارف، الرياض - الممكلة العربية السعودية: 13/617
(30) لسان الميزان لابن حجر ط مكتب المطبوعات الإسلامية: 8/217
(31) سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة للألباني ط دار المعارف، الرياض - الممكلة العربية السعودية: 2/59 (رقم الحديث: 593)

Friday, March 30, 2018

سخت گرمی والے دن ”اللھم اجرنی من النار“ کا ذکر

سخت گرمی کے دن ”اللھم اجرنی من النار“ کا ذکر
تحریر: عمر اثری عاشق علی اثری

سوال: کیا یہ بات صحیح ہے؟
جس دن بہت زیادہ گرمی ہوتی ہے تو اس وقت اللہ ﷻ فرشتوں کو زمین پر بھیجتا ہے کہ اے فرشتوں جاؤ زمین پر دیکھو میرے بندے اس گرمی میں کیا کہتے ہیں۔ اگر اس گرمی میں کوئی یہ چھوٹی سی دعا پڑھ لے ”اللھم اجرنی من النار“ تو اللہ ﷻ فرشتوں کو گواہ بنا کر اس شخص کو جہنم سے بخش دیتا ہے۔

جواب: مجھے ان الفاظ کے ساتھ کوئی روایت نہیں مل سکی۔ البتہ ایک روایت ملتی ہے جس میں سخت گرمی کے دن دعا کا تذکرہ ہے۔ لیکن اس میں ”اللہم اجرنی من النار“ کی جگہ ”اللھم اجرنی من حر جہنم“ کے الفاظ ہیں۔ روایت کے الفاظ بھی تھوڑے مختلف ہیں۔ امام ابن السنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عِيسَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي دَرَّاجٌ، حَدَّثَنِي أَبُو الْهَيْثَمِ وَاسْمُهُ سُلَيْمَانُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الْعُتْوَارِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَوْ عَنِ ابْنِ حُجَيْرةَ الْأَكْبَرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَوْ أَحَدِهِمَا - حَدَّثَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا كَانَ يَوْمٌ حَارٌّ، فَقَالَ الرَّجُلُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مَا أَشَدَّ حَرَّ هَذَا الْيَوْمِ، اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِجَهَنَّمَ: إِنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِي اسْتَجَارَ بِي مِنْ حَرِّكِ فَاشْهَدِي أَنِّي أَجَرْتُهُ، وَإِنْ كَانَ يَوْمٌ شَدِيدُ الْبَرْدِ، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مَا أَشَدَّ بَرْدَ هَذَا الْيَوْمِ، اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنْ زَمْهَرِيرِ جَهَنَّمَ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِجَهَنَّمَ: إِنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِي قَدِ اسْتَجَارَنِي مِنْ زَمْهَرِيرِكِ، وَإِنِّي أُشْهِدُكِ أَنِّي قَدْ أَجَرْتُهُ. قَالُوا: مَا زَمْهَرِيرُ جَهَنَّمَ؟ قَالَ: بَيْتٌ يُلْقَى فِيهِ الْكَافِرُ، فَيَتَمَيَّزُ مِنْ شِدَّةِ بَرْدِهَا بَعْضُهُ مِنْ بَعْضٍ
ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: جس دن گرمی ہو، اس دن آدمی یہ دعا پڑھے:
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مَا أَشَدَّ حَرَّ هَذَا الْيَوْمِ، اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، آج کتنی گرمی ہے، اے اللہ تو مجھے جہنم کے گرمی سے بچا)
تو اللہ ﷻ جہنم سے فرماتا ہے: میرے بندوں میں سے ایک بندے نے تری آگ سے میری پناہ طلب کی ہے۔ (اے جہنم) تو گواہ رہ کہ میں نے اسے جہنم سے بچا لیا ہے۔ اور اگر سخت سردی والے دن کوئی شخص یہ دعا پڑھتا ہے:
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مَا أَشَدَّ بَرْدَ هَذَا الْيَوْمِ، اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنْ زَمْهَرِيرِ جَهَنَّمَ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، آج کتنی سخت سردی ہے، اے اللہ میں تجھ سے جہنم کی سردی سے پناہ چاہتا ہوں)
تو اللہ ﷻ جہنم سے فرماتا ہے: میرے بندوں میں سے ایک بندے نے تیری سردی کی شدت سے میری پناہ طلب کی ہے۔ میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اسے پناہ دے دی ہے۔ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) نے عرض کیا: یہ زمہریر جہنم کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ جہنم میں ایک گھر ہے جہاں کافر کو ڈالا جائے گا تو سردی کی شدت سے اس کے جسم کے حصے (ٹکڑے ٹکڑے ہو کر) الگ ہو جائیں گے۔
(عمل الیوم واللیلۃ لابن السنی ط دار القبلۃ: 265، حدیث نمبر: 306، الاسماء والصفات للبیہقی ط مکتبۃ السوادی: 1/459، حدیث نمبر: 387، التخویف من النار لابن رجب الحنبلی ط مکتبۃ المؤید: 60، النقض علی المریسی للدارمی ط مکتبۃ الرشد: 1/324)

روایت کا حکم:
➊ امام عجلونی رحمہ اللہ نے ضعیف کہا ہے۔
(کشف الخفاء للعجلونی ط مؤسسۃ الرسالۃ: 2/466، حدیث نمبر: 2982)

➋ علامہ سخاوی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔
(مقاصد الحسنۃ للسخاوی ط دار الکتاب العربی: 2/714، حدیث نمبر: 1283)

➌ علامہ ابن الدیبغ الشیبانی رحمہ اللہ نے ضعیف کہا ہے۔
(تمییز الطیب من الخبیث ط دار الکتاب العربی: 188)

➍ زرقانی رحمہ اللہ نے بھی ضعیف قرار دیا ہے۔
(مختصر مقاصد الحسنۃ ط المکتب الاسلامی: 241، حدیث نمبر: 1174)

➎ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو منکر قرار دیا ہے۔
(سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ ط دار المعارف: 13/950، حدیث نمبر: 6428)

➏ شیخ سلیم ہلالی حفظہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔
(عجالۃ الراغب المتمنی فی تخریج کتاب ”عمل الیوم واللیلۃ“ لابن السنی ط دار ابن حزم: 1/360، حدیث نمبر: 307)

یہی روایت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے جسے حمزہ السہمی رحمہ اللہ تاریخ جرجان میں ذکر کیا ہے۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں:
أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَرَ لاحِقُ بْنُ الْحُسَيْنِ الصَّدْرِيُّ حَدَّثَنَا ضِرَارُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عُمَيْرٍ الْقَاضِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأُزْدِيُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غَيَّاثٍ الْنَخْعِيُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخْعِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا كَانَ يَوْمٌ حَارٌّ فَقَالَ الرَّجُلُ: لا إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مَا أَشَّدَّ حَرَّ هَذَا الْيَوْمِ اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ؟ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِجَهَنَّمَ: إِنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِي اسْتَجَارَ بِي مِنْ حَرِّكِ وَإِنِّي أُشْهِدُكِ أَنِّي أَجَرْتُهُ وَإِذَا كَانَ يَوْمًا شديد البرد فقال العبد: لا إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مَا أَشَدَّ بَرْدَ هَذَا الْيَوْمِ اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنْ زَمْهَرِيرِ جَهَنَّمَ قَالَ اللَّهُ لِجَهَنَّمَ: إِنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِي اسْتَجَارَنِي مِنْ زَمْهَرِيرِكِ وَإِنِّي أُشْهِدُكِ أَنِّي قَدْ أَجَرْتُهُ قَالُوا: مَا زَمْهَرِيرُ جَهَّنَمَ؟ قَالَ: بَيْتٌ يُلْقَى فِيهِ الْكَافِرُ فَيَتَمَيَّزُ مِنْ شِدَّةِ بَرْدِهِ بَعْضُهُ مِنْ بَعْضٍ
(تاریخ جرجان لحمزۃ السہمی ط عالم الکتاب: 486)

اس روایت کی سند میں دو علتیں ہیں:
➊ لاحق بن الحسین: اس کے متعلق محدثین کے اقوال ملاحظہ ہوں:
① ادریسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
كان كذابا أفاكا
مزید فرماتے ہیں:
يضع الحديث على الثقات ويسند المراسيل ويحدث عن من لم يسمع منهم
② ابن ماکولا رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لا يعتمد على حديثه ولا يفرح به
③ امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
حدث بالموضوعات
④ ابن النجار رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
مجمع على كذبه
(لسان المیزان لابن حجر ط مکتب المطبوعات الاسلامیۃ: 8/407، رقم الترجمۃ: 8400)

➋ ابو المرجی ضرار بن علی القاضی: یہ راوی مجہول ہے۔
(لسان المیزان لابن حجر ط مکتب المطبوعات الاسلامیۃ: 4/340، رقم الترجمۃ: 3965، میزان الاعتدال للذہبی ط دار الکتب العلمیۃ: 3/450، رقم الترجمۃ: 3959)

خلاصہ کلام یہ کہ یہ روایت درست نہیں ہے۔ لہذا اسکی نسبت اللہ کے رسول ﷺ کی طرف کرنا جائز نہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب!

Thursday, March 8, 2018

کون سی نماز کس نبی نے سب سے پہلے ادا کی؟

کون سی نماز کس نبی نے سب سے پہلے ادا کی؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
سوال: کیا یہ پوسٹ صحیح ہے؟
فجر کی نماز حضرت آدم علیہ السلام نے صبح ہونے كے شکر میں پہلی بار ادا کی. کیونکہ آپ نے جنت میں کبھی رات نہیں دیکھی تھی.
ظہر کی نماز حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام كی جان محفوظ رہنے کی خوشی میں پہلی بار ادا کی.
عصر کی نماز حضرت عزیر علیہ السلام نے سو سال بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے بعد پہلی بار ادا کی.
مغرب کی نماز حضرت داود علیہ السلام نے اپنی توبہ کے قبول ہونے کے بعد پہلی بار ادا کی. آپ نے نیت چار رکعت کی لیکن توبہ قبول ہونے پر تین رکعت پر سلام پھیر دیا.
عشاء کی نماز پہلی بار نبی اکرم ﷺ نے ادا فرمائی اسی لئے یہ آپ کی سب سے پسندیدہ نماز ہے. سبحان اللہ!

جواب: امام طحاوی رحمہ اللہ نے اس طرح کی ایک روایت اپنی کتاب ”شرح معانی الآثار“ میں ذکر کی ہے اور غالب گمان ہے کہ اسی کو توڑ مروڑ کر اس پوسٹ میں پیش کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ روایت نا ہی مرفوع ہے اور نا ہی موقوف۔
امام طحاوی رحمہ اللہ نے روایت بایں الفاظ نقل کی ہے:
حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ بَحْرَ بْنَ الْحَكَمِ الْكَيْسَانِيَّ يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَائِشَةَ يَقُولُ : إِنَّ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، لَمَّا تِيبَ عَلَيْهِ عِنْدَ الْفَجْرِ ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَصَارَتِ الصُّبْحُ ، وَفُدِيَ إِسْحَاقُ عِنْدَ الظُّهْرِ فَصَلَّى إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَرْبَعًا ، فَصَارَتِ الظُّهْرُ ، وَبُعِثَ عُزَيْرٌ ، فَقِيلَ لَهُ : كَمْ لَبِثْتَ ؟ فَقَالَ : يَوْمًا ، فَرَأَى الشَّمْسَ فَقَالَ : أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ ، فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فَصَارَتِ الْعَصْرُ . وَقَدْ قِيلَ : غُفِرَ لِعُزَيْرٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، وَغُفِرَ لِدَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ عِنْدَ الْمَغْرِبِ ، فَقَامَ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ، فَجَهَدَ فَجَلَسَ فِي الثَّالِثَةِ ، فَصَارَتِ الْمَغْرِبُ ثَلَاثًا . وَأَوَّلُ مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ نَبِيُّنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔
ترجمہ: بحر بن حکم الکیسانی کہتے ہیں کہ میں نے ابو عبد الرحمن عبید اللہ بن محمد بن عائشہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جب صبح کے وقت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، پس وہ نماز فجر ہوگئی۔ اور اسحاق علیہ السلام کا فدیہ ظہر کے وقت ادا کیا گیا تو ابراہیم علیہ السلام نے چار رکعات ادا کیں، پس وہ نماز ظہر ہوگئی۔ اور جب عزیر علیہ السلام کو اٹھایا گیا تو ان سے پوچھا گیا: آپ اس حالت میں کتنا عرصہ رہے؟ تو انہوں نے کہا: ایک دن پھر انھوں نے سورج کو دیکھا تو کہا: یا دن کا بھی کچھ حصہ۔ پھر انہوں نے چار رکعات ادا کیں تو وہ نماز عصر ہوگئی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عزیر اور داؤد علیہما السلام کی مغرب کے وقت مغفرت ہوئی تو انہوں نے چار رکعات نماز شروع کی لیکن تھک کر تیسری رکعت میں بیٹھ گئے۔ پس وہ نماز مغرب ہوگئی۔ اور جس ہستی نے سب سے پہلے آخری نماز (یعنی نماز عشاء) ادا کی وہ ہمارے نبی محمد ﷺ ہیں۔
(شرح معانی الآثار ط عالم الکتاب: 1/175، حدیث نمبر: 1046)

اس روایت میں دو راوی ایسے ہیں جن کے متعلق کلمہ توثیق یا تجریح نہیں مل سکا.
1) قاسم بن جعفر: بدر الدین عینی نے بھی اپنی کتاب ”مغانی الاخیار“ میں ان کے متعلق کوئی کلمہ توثیق یا تجریح نقل نہیں کیا ہے۔
(دیکھیں: مغانی الاخیار فی شرح اسامی رجال معانی الآثار: 3/461)

2) بحر بن الحکم: اس کے متعلق بھی بدر الدین عینی نے کوئی کلمہ توثیق یا تجریح نقل نہیں کیا ہے۔
(دیکھیں: مغانی الاخیار فی شرح اسامی رجال معانی الآثار: 4/507)

کچھ علماء نے اپنی کتب میں اس معنی کی ایک اور روایت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے واسطے سے ذکر کی ہے اور تقریبا سب نے رافعی رحمہ اللہ کی طرف اس کو منسوب کیا ہے کہ انھوں نے مسند شافعی کی شرح میں اس طرح کی روایت نقل کی ہے۔ چنانچہ رافعی رحمہ اللہ مسند شافعی کی شرح میں لکھتے ہیں:
فعن عائشة أنه - صلى الله عليه وسلم - سئل عن هذه الصلوات فقال: "هذه مواريث آبائي وإخواني: أما صلاة الهاجرة فتاب الله على داود حين زالت الشمس فصلى لله تعالى أربع ركعات فجعلها الله لي ولأمتي تمحيصا ودرجات، ونسب صلاة العصر إلى سليمان، والمغرب إلى يعقوب، وصلاة العشاء إلى يونس، وصلاة الفجر إلى آدم
(شرح مسند شافی ط وزارة الاوقاف والشؤون الاسلاميہ: 1/253)

رافعی رحمہ اللہ نے اس کو بلا سند نقل کیا ہے۔ البتہ انھوں نے اپنی ایک دوسری کتاب ”التدوين في اخبار قزوين“ میں اس روایت کو سند کے ساتھ مرفوعا ذکر کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
قالت عائشة رضي الله عنها قلت يا رسول الله ما هذه الصلاة قالت عائشة رضي الله عنها فقال لي رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: هذه مواريث آبائي وإخواني من الأنبياء". فأما صلاة الفجر فتاب الله تعالى على أبي آدم عند طلوع الشمس فصلى لله تعالى ركعتين شكرا فجعلها تعالى لي ولأمتي كفارات وحسنات وأما صلاة الهاجرة فتاب الله على داود حين زالت الشمس أتاه جبرئيل فبشره بالتوبة فصلى لله تعالى أربع ركعات فجعلها الله تعالى لي ولأمتي تمحيصا وكفارات ودرجات أما صلاة العصر فتاب الله تعالى على أخي سليمان حين صار ظل كل شيء مثله أتاه جبرئيل فبشره بالتوبة فصلى لله تعالى أربع ركعات شكرا فجعلها الله تعالى لي ولأمتي تمحيصا وكفارات ودرجات وأما صلاة المغرب فبشر الله تعالى يعقوب حين سقط القرص وحل الإفطار ثم أتاه جبرئيل فبشره أنه حي مرزؤق فصلى لله تعالى ثلاث ركعات شكرا فجعلها الله تعالى لي ولامتي تمحيصا وكفارت ودراجات. أما صلاة العشاء الآخرة فأخرج الله يونس من بطن الحوت كالفرخ لا جناح له حيث اشتبكت النجوم وغابت الشفق فصلى لله تعالى أربع ركعات شكرا فجعلها الله تعالى لي ولأمتي تمحيصا وكفارت ودرجات ثم قال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: "أرأيتم لو أن نهرا على باب أحدكم فاغتسل فيه كل يوم خمس مرات هل يبقى عليه من الدرن شيء" قالوا لا يا رسول الله! قال: فهذه الصلوة يغسلكم من الذنوب غسلا۔
(التدوين في اخبار قزوين ط دار الكتب العلميۃ: 3/379)

اس روایت کے متعلق حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ موضوع ہے۔
(لسان المیزان ط دار البشائر: 7/269)

تنبیہ: اس لمبی روایت کے آخر میں جو ٹکڑا ہے وہ صحیح بخاری کی ایک روایت میں موجود ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ ، يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا ، مَا تَقُولُ: ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ . قَالُوا: لَا يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا ، قَالَ: فَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ ، يَمْحُو اللهُ بِهِ الْخَطَايَا.
ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اگر کسی شخص کے دروازے پر نہر جاری ہو اور وہ روزانہ اس میں پانچ پانچ دفعہ نہائے تو تمہارا کیا گمان ہے۔ کیا اس کے بدن پر کچھ بھی میل باقی رہ سکتا ہے؟ صحابہ نے عرض کی کہ نہیں یا رسول اللہ! ہرگز نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہی حال پانچوں وقت کی نمازوں کا ہے کہ اللہ پاک ان کے ذریعہ سے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
(صحیح بخاری: 528)
واللہ اعلم بالصواب!

کتبہ: عمر اثری عاشق علی اثری

Tuesday, January 30, 2018

بارگاہ رسالت میں سانپ کی حاضری​ والے واقعہ کی تحقیق

بارگاہ رسالت میں سانپ کی حاضری​ والے واقعہ کی تحقیق


سوال: بارگاہ رسالت میں سانپ کی حاضری کے عنوان سے ایک ویڈیو کسی پیج پر شیئر کیا گیا تھا جس میں ایک عالم صاحب ایک حدیث بیان کر رہے ہیں کہ سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا کہ اچانک ایک سانپ آیا اور آپ ﷺ کے پہلوئے مبارک میں کھڑا ہو گیا پھر اس نے اپنا منہ پیارے آقا ﷺ کے مبارک کان کے قریب کر لیا گویا آپ سے کان میں کچھ عرض کرنے لگا تو نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہاں ٹھیک ہے پھر وہ سانپ واپس چلا گیا۔ میں نے حضور اکرم ﷺ سے دریافت کیا تو پیارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ جنات کا ایک فرد تھا اور وہ یہ کہ گیا ہے کہ آپ اپنی امت کو حکم فرما دیجئے کہ وہ گوبر اور پرانی ہڈی سے استنجا نہ کیا کریں۔ اس لئے کہ اللہ ﷻ نے اس میں ہمارا رزق بنا دیا ہے۔ (لقط المرجان)
مجھے اس کی تحقیق مطلوب ہے!

جواب: یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ مجھے باسند کہیں نہیں مل سکی اور جس کتاب کا حوالہ دیا گیا ہے یعنی ”لقط المرجان“ اس میں بھی یہ روایت باسند موجود نہیں۔ ”لقط المرجان“ کے الفاظ ہیں:
وروى ابن العربي بسنده عن جابر بن عبد الله قال: بينا أنا مع رسول الله ﷺ إذ جاءت حية فقامت إلى جنبه فأدنت فمها من أذنه وكأنها تناجيه، فقال النبي ﷺ: نعم، فانصرفت، فسألته، فأخبرني أنه رجل من الجن، وأنه قال: مر أمتك الا يستنجوا بالروث ولا بالرمة، فإن الله جعل لنا في ذلك رزقا
(لقط المرجان فی احکام الجان للسیوطی ط مکتبۃ القرآن: 26)

اس کے علاوہ درج ذیل علماء نے بھی اس روایت کو ان الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے:
1) عبد الرحمن بن عبد اللہ بن احمد الخثعمی السہيلی:
وروينا في حديث سمعته يقرأ على الشيخ الحافظ أبي بكر بن العربي بسنده إلى جابر بن عبد الله، قال بينا أنا مع رسول الله ﷺ نمشي إذ جاءت حية فقامت إلى جنبه وأدنت فاها من أذنه وكانت تناجيه أو نحو هذا، فقال النبي ﷺ "نعم" فانصرفت قال جابر فسألته، فأخبرني أنه رجل من الجن، وأنه قال له مر أمتك لا يستنجوا بالروث ولا بالرمة فإن الله جعل لنا في ذلك رزقا
(الروض الانف للسہیلی ط دار احياء التراث العربی: 5/32)

2) محمد بن عبد اللہ الشبلی:
وروى ابن العربي بسنده إلى جابر ابن عبد الله قال بينا أنا مع رسول الله ﷺ يمشى إذ جاءت حية فقامت إلى جنبه فأدنت فاها من أذنه وكأنها تناجيه أو نحو هذا فقال النبي ﷺ نعم فانصرفت قال جابر فسألته فأخبرني أنه رجل من الجن وأنه قال مر أمتك لايستنجوا بالروث ولا بالرمة فإن الله جعل لنا في ذلك رزقا
(آکام المرجان فی احکام الجان للشبلی ط مکتبۃ القرآن: 56)

3) نور الدین الحلبی:
وعن جابر بن عبد الله رضي الله تعالى عنهما قال «بينا أنا مع رسول الله ﷺ أمشي إذ جاءت حية فقامت إلى جنبه ﷺ وأدنت فاها من أذنه وكأنها تناجيه، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: نعم فانصرفت، قال جابر: فسألته، فأخبرني أنه رجل من الجن، وأنه قال له مر أمتك لا يستنجوا بالروث ولا بالرمة: أي العظم، لأن الله تعالى جعل لنا في ذلك رزقا
(السیرۃ الحلبیہ: دار الكتب العلميۃ: 2/510)

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کسی نے بھی اس روایت کی سند ذکر نہیں کی ہے صرف ابن العربی کی طرف اس روایت کو منسوب کر دیا ہے حالانکہ ابن العربی کی کتب میں بھی یہ روایت مجھے نہیں مل سکی۔ گویا کہ یہ روایت بلا سند مروی ہے لہٰذا اس کی نسبت ان الفاظ کے ساتھ اللہ کے رسول ﷺ کی طرف کرنا درست نہیں۔ البتہ یہ بات یاد رہے کہ جنوں کے وفد کا آپ ﷺ کے پاس آنا اور آپکا ہڈی اور گوبر سے استنجا کرنے سے منع کرنا دونوں باتیں ثابت ہیں۔ چنانچہ صحیح مسلم میں حدیث موجود ہے:
عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ هَلْ كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ؟ قَالَ: فَقَالَ عَلْقَمَةُ، أَنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَقُلْتُ: هَلْ شَهِدَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ؟ قَالَ: لَا وَلَكِنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَفَقَدْنَاهُ فَالْتَمَسْنَاهُ فِي الْأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ. فَقُلْنَا: اسْتُطِيرَ أَوِ اغْتِيلَ. قَالَ: فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا هُوَ جَاءٍ مِنْ قِبَلَ حِرَاءٍ. قَالَ: فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ فَقَدْنَاكَ فَطَلَبْنَاكَ فَلَمْ نَجِدْكَ فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ. فَقَالَ: «أَتَانِي دَاعِي الْجِنِّ فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ» قَالَ: فَانْطَلَقَ بِنَا فَأَرَانَا آثَارَهُمْ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ وَسَأَلُوهُ الزَّادَ فَقَالَ: " لَكُمْ كُلُّ عَظْمٍ ذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا يَكُونُ لَحْمًا وَكُلُّ بَعْرَةٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلَا تَسْتَنْجُوا بِهِمَا فَإِنَّهُمَا طَعَامُ إِخْوَانِكُمْ»
ترجمہ (مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری): عامر (بن شراحیل) سے روایت ہے، کہا: میں نے علقمہ سے پوچھا: کیا جنوں (سے ملاقات) کی رات عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے؟ کہا: علقمہ نے جواب دیا: میں نے خود ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ لوگوں میں سے کوئی لیلۃ الجن میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ موجود تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں، لیکن ایک رات ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے تو ہم نے آپ ﷺ کو گم پایا، ہم نے آپ کو وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کیا، (آپ نہ ملے) تو ہم نے کہا کہ آپ کو اڑا لیا گیا ہے یا آپ کو بے خبری میں قتل کر دیا گیا ہے، کہا: ہم نے بدترین رات گزاری جو کسی قوم نے (کبھی) گزاری ہوگی۔ جب ہم نے صبح کی تو اچانک دیکھا کہ آپ حراء کی طرف سے تشریف لا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو گم پایا تو آپ کی تلاش شروع کر دی لیکن آپ نہ ملے، اس لئے ہم نے وہ بدترین رات گزاری جو کوئی قوم (کبھی) گزار سکتی ہے۔ اس پر آپ نے فرمایا: ”میرے پاس جنوں کی طرف سے دعوت دینے والا آیا تو میں اس کے ساتھ گیا اور میں نے ان کے سامنے قرآن کی قراءت کی۔‘‘ انہوں نے کہا: پھر آپ (ﷺ) ہمیں لے کر گئے اور ہمیں ان کے نقوش قدم اور ان کی آگ کے نشانات دکھائے۔ جنوں نے آپ سے زاد (خوراک) کا سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ’’تمہارے لیے ہر وہ ہڈی ہے جس (کے جانور) پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اور تمہارے ہاتھ لگ جائے، (اس پر لگا ہوا) گوشت جتنا زیادہ سے زیادہ ہو اور (ہر نرم قدموں والے اونٹ اور کٹے سموں والے) جانور کی لید تمہارے جانوروں کا چارہ ہے۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے (انسانوں سے) فرمایا: ’’تم ان دونوں چیزوں سے استنجانہ کیا کرو کیونکہ یہ دونوں (دین میں) تمہارے بھائیوں (جنوں اور ان کے جانوروں) کا کھانا ہیں۔‘‘
(صحیح مسلم: 450)

لہذا صحیح روایات کو بیان کیا جانا چاہئے بلا سند اور ضعیف روایات بیان کرنے سے بچنا چاہئے۔
واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عمر اثری عاشق علی اثری

Wednesday, January 24, 2018

کیا کدو کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث موجود ہے؟

کیا کدو کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث موجود ہے؟؟؟



سوال: مجھے یہ جاننا تھا کہ کیا کدو کی فضیلت پر بھی کوئی حدیث ہے؟

جواب: کدو ایک قسم کی سبزی ہے جسے لوکی اور گھیا بھی کہا جاتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کو یہ بے حد محبوب تھی چنانچہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ، قَالَ أَنَسٌ: فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُهُ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ الْقَصْعَةِ، قَالَ: فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ مِنْ يَوْمِئِذٍ
ترجمہ: ایک درزی نے رسول اللہ ﷺ کو کھانے پر بلایا جسے انہوں نے نبی کریم ﷺ کے لیے تیار کیا تھا۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ میں بھی گیا، میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ پیالہ میں چاروں طرف کدو تلاش کرتے تھے (کھانے کے لیے) (انس رضی اللہ عنہ نے مزید) بیان کیا کہ اسی دن سے کدو مجھ کو بھی بہت بھانے لگا۔
(صحیح بخاری: 5379)

اسکے علاوہ اس مضمون کی اور بھی کئی صحیح احادیث ہیں لیکن خاص کدو کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث موجود نہیں ہے (فیما ادری)۔ کچھ روایات تو ملتی ہیں لیکن ان میں کچھ ضعیف ہیں تو کچھ موضوع۔ تفصیل پیش خدمت ہے:
1) كان يكثر من أكل الدباء، فقلت: يا رسول الله! إنك تكثر من أكل الدباء، قال: إنه يكثر الدماغ، ويزيد في العقل
ترجمہ: (انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) نبی اکرم ﷺ کدو بہت زیادہ کھاتے تھے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول (ﷺ)! آپ کدو بہت زیادہ کھاتے ہیں؟ (کیا بات ہے؟)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دماغ کو بڑھاتا ہے اور عقل میں اضافہ کرتا ہے۔
علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے۔ 
(دیکھیں: سلسلہ الاحادیث الضعیفہ: 1608)

یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ بھی روایت کی جاتی ہے:
عليكم بالقرع فإنه يزيد بالدماغ
ترجمہ: تم کدو کو لازم پکڑو کیونکہ یہ دماغ کو بڑھاتی ہے.۔
یہ روایت بھی موضوع ہے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس کو موضوع قرار دیا ہے۔
(دیکھیں: سلسلہ الاحادیث الضعیفہ: 510، 40)

2) يا عائشة! إذا طبخت قدراً، فأكثروا فيها من الدُّبَّاء، فإنه يشد قلب الحزين
ترجمہ: اے عائشہ! جب تم ہانڈی پکاؤ تو اس میں کدو کثرت سے ڈالا کرو کیونکہ وہ پریشان دل کو سکون دیتا ہے۔
علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔ 
(دیکھیں: سلسلہ الاحادیث الضعیفہ: 6935)
واللہ اعلم بالصواب!

کتبہ: عمر اثری