Monday, January 14, 2019

فضل اللہ چشتی صاحب کے بہتان کا جواب

فضل اللہ چشتی صاحب کے بہتان کا جواب

تحریر: عمر اثری سنابلی

ایک ویڈیو بھیج کر اس کا جواب طلب کیا گیا ہے جسمیں ایک بریلوی عالم فضل اللہ چشتی صاحب نے اہل حدیثوں پر تحریف جیسے سنگین الزامات لگائے ہیں۔ آئیے اس ویڈیو میں کئے گئے اعتراضات پر نظر ڈالتے ہیں اور ان کی حقیقت جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ 
پہلا اعتراض: چشتی صاحب کہتے ہیں کہ: 
”امام صابونی رحمہ اللہ اپنی کتاب ”عقیدۃ السلف“ (جس میں انہوں نے اسلام کے شروع کے تین سو سال کے بزرگوں کے عقائد درج کئے ہیں) میں لکھتے ہیں: 
باب زيارة قبور النبي صلى الله عليه وسلم
یعنی انھوں نے نبی ﷺ کی قبر مبارک پر جانے کے متعلق باب باندھا ہے۔ (چشتی صاحب آگے کہتے ہیں) اور یہی ہمارا عقیدہ ہے اور دلیل میں حدیث «من زار قبري، وجبت له شفاعتي» پیش کی اور کہا کہ امام بزار نے اس روایت کو صحیح کہا ہے۔ اس کے بعد چشتی صاحب نے کہا کہ اہل حدیثوں نے ”دار السلام“ سے جب اس کتاب کو چھاپا تو اس میں ”قبر“ کی جگہ ”مسجد“ کا لفظ داخل کر دیا۔“
جواب: مجھ کو اب تک ”عقیدۃ السلف للصابونی“ مطبوعہ دار السلام نہیں مل سکی۔ اور ان صاحب نے خود اپنی کتاب ”تحریفات“ میں جو اسکین اميج لگایا ہے وہ ”دار السلام“ کا نہیں ہے بلکہ ان کے بقول (کیونکہ اسکین میں طباعت کا ذکر نہیں ہے) وہ ”دار التوحید، کویت“ کی طبع ہے۔ میں اس طبع کو تلاش کے باوجود حاصل نہیں کرسکا لہذا کتاب کی طباعت اور محقق کے متعلق زیادہ علم نہیں، البتہ: 
➊ ممکن ہے کہ محقق کتاب کو کسی مخطوطہ میں ”مسجد“ کا لفظ مل گیا ہو۔ 
➋ یہی کتاب دوسرے علماء کی تحقیق سے بھی چھپی ہے  لیکن ان میں ”مسجد“ کا لفظ نہیں ہے بلکہ ”قبر“ کا لفظ ہے۔ لہذا کسی ایک کے عمل سے تمام اہل حدیثوں کو مطعون کرنا اور ان پر تحریف کا الزام لگانا چہ معنی دارد؟ خاص طور سے جس طباعت میں لفظ ”مسجد“ ہے وہ قدیم ہے اس کے بعد تمام طباعتوں میں ”قبر“ کا لفظ ہے۔
➌ ہمارا عقیدہ
«لاَ تَشُدُّوا الرِّحَالَ إِلاَّ إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِي هَذَا وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْمَسْجِدِ الأَقْصَى»
”نہ ‌باندھو ‌تم ‌كجاووں ‌كو (یعنی ‌سفر ‌نہ ‌كرو) ‌مگر ‌تین ‌مسجدوں ‌كی ‌طرف ‌ایک ‌میری ‌یہ ‌مسجد ‌اور ‌دوسری ‌مسجد الحرام ‌اور ‌تیسری ‌مسجد ‌اقصی۔“
(صحيح مسلم حديث نمبر: 728)
جیسے  نصوص پر مشتمل ہے کسی کے عمل یا تحریف پر نہیں۔ 

◈ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امام صابونی رحمہ اللہ نے لفظ ”قبر“ کیوں ذکر کیا ہے کیا ان کا یہی عقیدہ ہے؟ یا یہ کہ پہلی تین صدی کے علماء کا یہی عقیدہ ہے جیسا کہ چشتی صاحب نے کہا؟
◄ اس کے جواب میں عرض ہے کہ: 
① امام صابونی رحمہ اللہ نے کسی کا عقیدہ نہیں ذکر کیا ہے اور نہ ہی کوئی باب باندھا ہے بلکہ سبب تالیف میں اس بات کو انھوں نے ذکر کیا ہے۔ ان کے الفاظ ہیں: 
«فإني لما وردت آمد طبرستان وبلاد جيلان متوجها إلى بيت الله الحرام وزيارة قبر نبيه محمد صلى الله عليه وعلى آله وأصحابه الكرام»
”جب میں بیت اللہ اور قبر نبوی ﷺ کی زیارت کے قصد سے (راستہ میں) طبرستان کے شہر آمل اور جیلان آیا۔“
(عقیدۃ السلف واصحاب الحدیث ط دار العصامۃ: 158)

② ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ بعض علماء قبر رسول (ﷺ) کی زیارت بول کر مسجد نبوی کی زیارت مراد لیتے تھے۔
(مجموع الفتاوی: 27/246) 
البتہ اس طرح کہنے کو بھی علماء نے ناپسند کیا ہے۔
(مجموع الفتاوی: 27/245) 

❀ اب یہاں چشتی صاحب سے میرا سوال ہے کہ اپنے عقیدے کے اثبات کے لئے جو زور آپ لگا رہے ہیں کیا اس طرح کا زور آپ امام صابونی رحمہ اللہ کی کتاب میں موجود دوسرے عقائد (جیسے ایمان کی تعریف، اس میں کمی و زیادتی اور اسی طرح استواء علی العرش) کو اختیار کرنے میں لگا رہے ہیں؟ امام صابونی رحمہ اللہ نے اپنا ایک عمل ذکر کیا تو آپ نے اس کو پہلی تین صدی ہجری کے علماء کا عقیدہ قرار دے کر اس کو اپنا عقیدہ کہا لیکن علمائے سلف کے جو عقائد انہوں نے اپنی کتاب میں ذکر کئے ہیں ان سے آپ کوسوں دور نظر آتے ہیں؟ ایسا کیوں ہے؟

✿ اور جو حدیث چشتی صاحب نے نبی اکرم ﷺ کی قبر کی زیارت کے لئے بطور دلیل پیش کی ہے وہ بایں الفاظ مروی ہے: 
مَنْ زَارَ قَبْرِي وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِي
”جس نے میری قبر کی زیارت کی، اس کے لئے میری شفاعت واجب ہو گئی۔“
(سنن الدارقطني ط الرسالۃ: 3/334، حدیث نمبر: 2695، شعب الإيمان للبيهقي ط الرشد: 6/51، حدیث نمبر: 3862)

❀ تبصرہ: اس کی سند ”ضعیف“ ہے، اس پر درج ذیل محدثین نے کلام کیا ہے: 
⓵ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«فإن فى القلب منه…………….أنا أبرا من عهدة هذا الخبر»
”میرے دل میں اس کے بارے میں خلش ہے…………میں اس کی ذمہ داری سے بری ہوں۔“
(لسان الميزان لابن حجر ط مکتب المطبوعات الاسلامیۃ: 228/8)

◈ نیز اس روایت کو امام صاحب نے ”منکر“ بھی قرار دیا ہے۔
(حوالہ سابق)

◈ حافظ سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«وهو فى صحيح ابن خزيمة وأشار الى تضعيفه»
”یہ روایت صحیح ابن خزیمہ میں ہے، اور امام صاحب (ابن خزیمہ) نے اس کے ضعیف ہونے کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔“
(المقاصد الحسنة فى بيان كثير من الأحاديث المشتهرة على الألسنة ط دار الکتاب العربی: 1/647، حدیث نمبر: 1125)

⓶ امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فيها لين
”اس میں کمزوری ہے۔“ 
(الضعفاء الكبير للعقیلی ط دار الکتب العلمیۃ: 170/4)

⓷ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«فهو منكر»
”یہ روایت منکر ہے۔“
(شعب الإيمان للبيهقي ط الرشد: 6/51)

⓸ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 
«وهو حديث منكر»
”یہ حدیث منکر ہے۔“ 
(تاريخ الاسلام للذھبی ط دار الغرب الاسلامی: 4/663)

⓹ حافظ ابن عبدالہادی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
«وهو مع هذا حديث غير صحيح ولا ثابت، بل هو حديث منكر عند أئمة هذا الشأن ضعيف الاسناد عندهم، لايقوم بمثله حجة، ولا يعتمد على مثله عند الاحتجاج الا الضعفاء في هذا العلم»
”اس کے ساتھ ساتھ یہ حدیث نہ صحیح ہے نہ ثابت۔ بلکہ یہ تو فن حدیث کے ائمہ کے نزديک منکر اور ضعیف الاسناد روایت ہے۔ اس جیسی روایت دلیل بننے کے لائق نہیں ہوتی۔ علم حدیث میں ناپختہ کار لوگ ہی ایسی روایات کو اپنی دلیل بناتے ہیں۔“ 
(الصارم المنكي فى الرد على السبكي ط الریان: 1/21)

⓺ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«ولا يصح فى هذا الباب شیء»
”اس باب میں کچھ بھی ثابت نہیں۔“ 
(التلخيص الحبير ط العلمیۃ: 569/2)

اب رہا مسئلہ امام بزار کی تصحیح کا تو مجھے ان کی تصحیح نہیں مل سکی اور اگر انہوں نے صحیح کہا بھی ہو تو اتنے سارے محدثین کے مقابلہ میں ان کی بات قبول نہیں کی جائے گی۔ 

دوسرا اعتراض: چشتی صاحب کہتے ہیں کہ:
”اہل حدیثوں نے سنن ترمذی کا انگریزی نسخہ جو ”دار السلام“ سے چھاپا ہے اس میں تحریف کر دی اور چونکہ ان کو عربی سے کوئی سروکار نہیں ہوتا لہذا انہوں نے ترجمہ میں گڑبڑ کردی۔ اصل ترجمہ تھا:
”قبر سے سورہ ملک پڑھنے کی آواز آئی“ 
لیکن انہوں نے اس کو بدل دیا اور ترجمہ کیا: 
”صحابی نے خیمہ لگا کر سورہ ملک پڑھی“ 
جواب: جس روایت کی طرف چشتی صاحب نے اشارہ کیا ہے وہ ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے: 
«عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : ضَرَبَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِبَاءَهُ عَلَى قَبْرٍ ، وَهُوَ لَا يَحْسِبُ أَنَّهُ قَبْرٌ ، فَإِذَا فِيهِ إِنْسَانٌ يَقْرَأُ سُورَةَ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ حَتَّى خَتَمَهَا ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي ضَرَبْتُ خِبَائِي عَلَى قَبْرٍ ، وَأَنَا لَا أَحْسِبُ أَنَّهُ قَبْرٌ فَإِذَا فِيهِ إِنْسَانٌ يَقْرَأُ سُورَةَ تَبَارَكَ الْمُلْكُ حَتَّى خَتَمَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هِيَ الْمَانِعَةُ هِيَ الْمُنْجِيَةُ تُنْجِيهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ»
”عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ صحابہ میں سے کسی نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کر دیا اور انہیں معلوم نہیں ہوا کہ وہاں قبر ہے، (انہوں نے آواز سنی) اس قبر میں کوئی انسان سورہ «تبارك الذي بيده الملك» پڑھ رہا تھا، یہاں تک کہ اس نے پوری سورہ ختم کر دی۔ وہ صحابی نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے پھر آپ سے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کر دیا، مجھے گمان نہیں تھا کہ اس جگہ پر قبر ہے۔ مگر اچانک کیا سنتا ہوں کہ اس جگہ ایک انسان سورہ «تبارك الملك» پڑھ رہا ہے اور پڑھتے ہوئے اس نے پوری سورہ ختم کر دی۔ آپ نے فرمایا: «هي المانعة» ”یہ سورۃ مانعہ ہے، یہ نجات دینے والی ہے، اپنے پڑھنے والے کو عذاب قبر سے بچاتی ہے۔“
(سنن ترمذی: 2890، قال الشيخ الألباني: ضعيف، وإنما يصح منه قوله: هي المانعة..... ، الصحيحة: 1140، ضعيف الجامع الصغير: 6101، المشكاة: 2154)
اس حدیث کے انگریزی ترجمہ میں تحریف کا الزام درحقیقت چشتی صاحب کے متعصب ہونے کی دلیل ہے اور ان کے اس بودے اعتراض پر عرض ہے کہ:
➊ ترمذی کی زیر بحث روایت ”ضعیف“ ہے۔ کیونکہ اس کی سند میں ”یحیی بن عمرو“ ضعیف راوی ہیں۔ چنانچہ کئی علماء نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔ البتہ اس روایت کا آخری ٹکڑا (هي المانعة) شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔ 
خلاصہ کلام یہ کہ یہ روایت ضعیف ہے۔ لہذا ”دار السلام“ والوں کو اس میں تحریف کی کیا ضرورت پیش آگئی۔ 
➋ اگر ”دار السلام“ والوں کو تحریف کرنی ہی تھی تو صرف انگریزی ترجمہ میں ہی کیوں کی؟ عربی الفاظ میں تحریف کیوں نہیں کی؟ چلئے عربی چھوڑیں ”دار السلام“ سے مطبوع اردو ترجمہ میں تحریف کیوں نہیں ہے؟ ان سب باتوں کا چشتی صاحب کے پاس یقینا کوئی جواب نہیں ہے کیوں کہ وہ بس دشمنی میں اول فول بک رہے ہیں۔ 

تیسرا اعتراض: اس کے بعد چشتی صاحب نے ”القول البدیع“ میں بھی ایک تحریف کا الزام لگایا ہے۔ 
جواب: ہم اس پر کچھ تبصرہ نہیں کریں گے کیونکہ یہ تحریف کی گاج چشتی صاحب نے دیوبندیوں پر گرائی ہے کہ انھوں نے تحریف کی ہے۔ (جیسا کہ انہوں نے اپنی کتاب ”تحریفات“ میں ذکر کیا ہے) البتہ ہم ان کی پیش کردہ روایت کے متعلق  گفتگو کریں گے۔ امام سخاوی رحمہ اللہ نے روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے: 
«عن سهل بن سعد رضي الله عنه قال جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فشكا إليه الفقر وضيق العيش او المعاش فقال له رسول الله - صلى الله عليه وسلم - إذا دخلت منزلك فسلم إن كان فيه أحد أو لم يكن فيه أحد ثم سلم علي واقرأ «قل هو الله أحد» مرة واحدة ففعل الرجل فأدر الله عليه الرزق حتى أفاض على جيرانه وقراباته»
”سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور فقر و فاقہ اور زندگی یا معاش کی تنگی کی شکایت کی۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: جب تم اپنے گھر میں داخل ہو اور گھر میں کوئی ہو یا نا ہو تو سلام کرو، پھر مجھ پر سلام بھیجو اور ایک مرتبہ قل ھو اللہ احد پڑھو ، پس اس آدمی نے ایسا ہی کیا تو اللہ ﷻ نے اس کے رزق میں زیادتی پیدا کر دی یہاں تک کہ ان کے پڑوسی اور اقرباء تک کو شامل کردیا۔“
(القول البدیع ت محمد عوامہ: 273، حدیث نمبر: 37)

روایت پر تبصرہ: اس روایت پر میں کیا تبصرہ کروں خود امام سخاوی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا: 
«رواه أبو موسى المديني بسند ضعيف»
”اس روایت کو ابو موسی المدینی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔“

چوتھا اعتراض: چشتی صاحب کہتے ہیں کہ:
”غیر مقلدین نے سنن نسائی کی سجدوں میں رفع الیدین والی حدیث کی سند میں تحریف کی اور جب ”دار السلام“ سے اس کتاب کو چھاپا تو ”شعبہ“ کے بجائے ”سعید“ کر دیا۔ مزید کہتے ہیں کہ غیر مقلدین کے محدث البانی نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے۔"
جواب: درحقیقت یہ اعتراض کم علمی اور تعصب کی بنا پر کیا جا رہا ہے ”شعبہ“ کے بجائے ”سعید“ ذکر کرنا  تحریف نہیں تحقیق ہے۔ اور اگر ان کے نزدیک یہ تحریف ہے تو ان کے مطابق مندرجہ ذیل محدثین بھی تحریف کے مرتکب ہوئے ہیں: 
⓵ ابن ابی عدی سے یہی روایت احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے سعید بن ابی عروبہ کی سند سے نقل کی ہے۔ 
(مسند احمد ط الرسالۃ حدیث نمبر: 15600، 15604)

⓶ ابن ابی عدی سے محمد بن المثنی کی روایت امام مسلم نے سعید بن ابی عروبہ کی سند سے نقل کی ہے۔ 
(صحیح مسلم، حدیث نمبر: 391)

⓷ یہی روایت اسی سند و متن کے ساتھ امام نسائی کی ”السنن الکبری“ میں «سعید عن قتادہ» کی سند سے موجود ہے۔ 
(سنن الکبری للنسائی ط الرسالۃ: 1/343، حدیث نمبر: 676)

یہ اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے کہ ”سنن نسائی“ میں ناشر یا کاتب کی غلطی کی وجہ سے «سعید عن قتادہ» کے بجائے «شعبہ عن قتادہ» ہوگیا۔

⓸ ابن حزم نے ”المحلی“ میں اپنی سند کے ساتھ امام نسائی رحمہ اللہ سے یہ حدیث نقل کی ہے اور اس میں «سعید بن ابی عروبہ» کا نام ہے۔
(المحلی بالآثار ط دار الفکر: 3/8)

⓹ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ”فتح الباری“ میں یہ روایت نسائی سے «سعید بن ابی عروبہ» کی صراحت سے نقل کی ہے۔ 
(فتح الباری لابن حجر ط دار المعرفۃ: 2/223)

⓺ امام طحاوی حنفی رحمہ اللہ نے یہی روایت امام نسائی رحمہ اللہ سے ”سعید“ کی سند سے نقل کی ہے۔ 
(مشکل الآثار ط الرسالۃ: 15/57، حدیث نمبر: 5837)

⓻ امام بیہقی رحمہ اللہ نے ”محمد بن المثنی“ والی روایت ”سعید“ کی سند کے ساتھ نقل کی ہے۔
(السنن الکبری للبیہقی ط دار الکتب العلمیۃ: 2/39، حدیث نمبر: 2307)

تنبیہ: یہ روایت سجدوں کے رفع الیدین کے ذکر کے ساتھ شاذ ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھیں مسند احمد ط الرسالۃ۔

آخر میں بس اتنا کہوں گا کہ انسان کو تعصب میں اس قدر نہیں بڑھ جانا چاہئے کہ فریق مخالف پر بلا وجہ تحریف جیسے الزامات لگائے اور اس میں اتنا بڑھ جائے کہ جھوٹ، بہتان اور تدلیس کا سہارا لینے لگے۔ آپ اس تحریر میں چشتی صاحب کی عادت دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے وہ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے جھوٹ اور تدلیس کا سہارا لے رہے ہیں۔ یہ ہم کو کہتے ہیں کہ غیر مقلدین کو عربی سے کوئی سروکار نہیں ہوتا حالانکہ چشتی صاحب خود عربی عبارت تک نہیں پڑھ پاتے اور حد تو یہ ہے کہ حدیث پڑھنے میں غلطی کرتے ہیں۔ اگر میں انکی ان حرکتوں پر کچھ لکھنے بیٹھوں گا تو پھر بات لمبی چل نکلے گی۔ لہذا بس اسی پر اکتفاء کرتا ہوں اور اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ حق بات کہنے، سننے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین

Sunday, December 16, 2018

کیا عورت اپنے ساتھ چار مردوں کو جہنم میں لے کر جائے گی؟

کیا عورت اپنے ساتھ چار مردوں کو جہنم میں لے کر جائے گی؟؟؟


سوال: السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرا سوال یہ ہے کہ ایک حدیث بہت سننے میں آتی ہے کہ ”ایک عورت چار مردوں کو جہنم میں لے جائے گی۔“
یہ حدیث صحیح ہے یا ضعیف؟؟؟

جواب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ بیان کی جاتی ہے:
إذا دخلت امرأة إلى النار أدخلت معها أربعة، أباها وأخاها وزوجها وولدها
”جب عورت جہنم میں داخل ہوگی تو اپنے ساتھ چار لوگوں کو جہنم میں لے کر جائے گی:
اپنے باپ کو، اپنے بھائی کو، اپنے شوہر کو اور اپنے بیٹے کو۔“
کچھ لوگ اس روایت کو حجاب کے ساتھ ذکر کرکے بیان کرتے ہیں:
أربعة يُسألون عن حجاب المرأة: أبوها، وأخوها، وزوجها، وابنها
”چار لوگوں سے عورت کے حجاب کے متعلق سوال کیا جائے گا:
اس کے باپ سے، اس کے بھائی سے، اس کے شوہر سے اور اس کے بیٹے سے۔“
اس معنی کی کوئی بھی صحیح یا ضعیف روایت مجھے نہیں مل سکی۔ اور متعدد باحثین اور محققین نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ اس روایت کی کوئی اصل نہیں ہے۔
مزید یہ کہ یہ روایت شریعت کے اس اصول کے خلاف ہے کہ کوئی شخص دوسروں کے گناہوں کے عوض جہنم میں داخل ہو۔ چنانچہ فرمان باری تعالی ہے:
وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَّا عَلَيْهَا وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى
”اور جو شخص بھی کوئی عمل کرتا ہے وه اسی پر رہتا ہے اور کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔“
(سورۃ الانعام: 164)

اور نبی ﷺ کا فرمان ہے:
أَلَا لَا يَجْنِي جَانٍ إِلَّا عَلَى نَفْسِهِ ، لَا يَجْنِي وَالِدٌ عَلَى وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ عَلَى وَالِدِهِ
”خبردار! مجرم اپنے جرم پر خود پکڑا جائے گا، (یعنی جو قصور کرے گا وہ اپنی ذات ہی پر کرے گا اور اس کا مواخذہ اسی سے ہو گا) باپ کے جرم میں بیٹا نہ پکڑا جائے گا، اور نہ بیٹے کے جرم میں باپ۔“
(سنن ابن ماجہ: 2669، سنن ترمذی: 2159۔ قال الشيخ الألباني: صحيح)

اور سوال میں مذکور روایت کی تردید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ نوح اور لوط علیہما السلام کی بیویاں کافرہ تھی تو کیا ان کی وجہ سے نوح اور لوط علیہما السلام کو گناہ ملے گا؟؟؟
خلاصہ کلام یہ کہ سوال میں مذکور روایت بے اصل ہے۔ البتہ یہ بات یاد رکھیں کہ اپنے اہل وعیال کو جہنم سے بچانا ہر انسان پر واجب ہے۔ فرمان الہی ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا
”اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔“
(سورۃ التحریم: 6)

اور نبی ﷺ کا فرمان ہے:
مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ سِنِينَ، وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ
”جب تمہاری اولاد سات سال کی ہو جائے تو تم ان کو نماز پڑھنے کا حکم دو، اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو انہیں اس پر (یعنی نماز نہ پڑھنے پر) مارو، اور ان کے سونے کے بستر الگ کر دو۔“
(سنن ابی داؤد: 495۔ قال الشيخ الألباني: حسن صحيح)

لہذا اگر وہ اپنی اس ذمہ داری کو پورا نہیں کرتا تو بروز قیامت ذمہ داری ادا نہ کرنے کی بنا پر اس کی باز پرس اور پکڑ ہوگی۔ فرمان نبوی ہے:
أَلَا كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَالْأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ
”سن رکھو! تم میں سے ہر شخص حاکم ہے اور ہر شخص سے اس کی رعایا کے متعلق سوال کیا جائے گا، سو جو امیر لوگوں پر مقرر ہے وہ راعی (لوگوں کی بہبود کا ذمہ دار) ہے اس سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھا جائے گا اور مرد اپنے اہل خانہ پر راعی (رعایت پر مامور) ہے، اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال ہو گا۔“ 
(صحیح مسلم: 1829)
واللہ اعلم بالصواب!

کتبہ: عمر اثری سنابلی

Wednesday, December 12, 2018

دل كے مردہ اور زندہ ہونے كے تین نشانیاں

دل كے مردہ اور زندہ ہونے كے تین نشانیاں ہیں؟


سوال: کیا یہ حدیث صحیح ہے؟
”تین جگہوں پر اپنے دل کو دیکھو....لگتا ہے یا گھبراتا ہے....
1- قرآن كے سامنے بیٹھ کر دیکھو دل لگتا ہے یا گھبراتا ہے؟
2- ذکر کی مجالس میں بیٹھ کر دیکھو دل لگتا ہے یا گھبراتا ہے؟
3- تنہائی میں بیٹھ کر دیکھو دل اللہ كے لئے تڑپتا ہے یا گھبراتا ہے؟
اگر تیرا دل قرآن سے گھبرائے، اللہ كے ذکر کی مجالس سے گھبرائے، تنہائی سے گھبرائے تو تو اللہ سے مانگ کہ اللہ تجھے دل عطا فرمائے، تیرا دل مر چکا ہے۔

جواب: اسکی کوئی بھی صحیح یا ضعیف سند مجھے نہیں مل سکی۔ مشہور ویب سائٹ ”الدرر السنیۃ“ میں اس کے متعلق لکھا ہے:
ليس بحديث، بل هو من كلام الإمام ابن القيِّم في كتابه ((الفوائد))
”یہ حدیث نہیں ہے، بلکہ یہ امام ابن القیم رحمہ اللہ کا کلام ہے جو انکی کتاب «الفوائد» میں موجود ہے۔“

گویا کہ یہ سرے سے حدیث ہی نہیں ہے لہذا اس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کرنا جائز نہیں۔
ابن القیم رحمہ اللہ سے یہ قول بایں الفاظ مروی ہے:
اطلب قلبك في ثلاثة مواطن: عند سماع القرآن، وفي مجالس الذِّكر، وفي أوقات الخَلوة، فإن لم تجده في هذه المواطن، فاسأل الله أن يمن عليك بقلب؛ فإنه لا قلب لك
”تین مقامات پر اپنے دل کو تلاش کرو:
1- قرآن سنتے وقت
2- ذکر کی مجالسں میں
3- خلوت کے اوقات میں
اگر ان مقامات میں اپنے دل کو نہ پاؤ تو اللہ ﷻ سے دل مانگو کیونکہ تمہارے پاس دل نہیں۔“
(الفوائد لابن القیم بتحقیق الشیخ محمد عزیر شمس: 218)

فائدہ: یہ قول ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف بھی منسوب کر کے بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن اس قول کی نسبت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف کرنا صحیح نہیں ہے جیسا کہ شیخ ابو عمر اسامہ العتیبی نے وضاحت کی ہے۔

کتبہ: عمر اثری سنابلی

Monday, December 10, 2018

آنکھیں اگر ہوں بند تو پھر دن بھی رات ہے اس میں بھلا قصور ہے کیا آفتاب کا

آنکھیں اگر ہوں بند تو پھر دن بھی رات ہے
اس میں بھلا قصور ہے کیا آفتاب کا

تحریر: عمر اثری سنابلی


پہلے سوچا کہ کیا لکھوں کہ جہالت و نادانی کو اہمیت دینے کا کوئی فائدہ نہیں لیکن لوگوں نے اصرار کیا اور کہا کہ اب پانی سر سے اونچا ہو گیا ہے لہذا ان کے کہنے پر یہ کچھ جملے ندیم پوری صاحب آپ کے گوش گزار کرنے کی سعی کر رہا ہوں اس امید کے ساتھ کہ آپ اپنی اصلاح کی کوشش کریں گے۔
سب سے پہلے یہ کہ آپ اپنی حیثیت نہ بھولیں کہ آپ ایک عامی ہیں لہذا عامی کے جیسا برتاؤ کریں۔
دوسرے یہ کہ کیا آپ کو علماء پر طعن کا نقصان نہیں معلوم؟ کیا آپ نبی ﷺ کے طریقہ سے ہٹنا چاہتے ہیں؟ اگر نہیں تو نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان پر ذرا غور کریں:
ليس من أُمتي من لم يُجِلَّ كبيرَنا، ويَرحَمْ صغيرَنا، ويعرِفْ لعالمِنا
ترجمہ: جو شخص ہمارے بڑوں کی تعظیم نہیں کرتا، ہمارے چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا اور ہمارے علماء کی قدر نہیں کرتا وہ میری امت میں سے نہیں۔
(صحیح الترغيب للالبانی، حدیث نمبر: 101)

کیا آپ کو قیامت کی مفلسی سے ڈر نہیں لگتا؟ نبی ﷺ نے فرمایا تھا:
أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟ قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ. فَقَالَ: إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا؛ فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ؛ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ
ترجمہ: کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟ صحابہ نے کہا؛ ہمارے نزدیک مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس نہ درہم ہو، نہ کوئی ساز و سامان۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکاۃ لے کر آئے گا اور اس طرح آئے گا کہ (دنیا میں) اس کو گالی دی ہوگی، اس پر بہتان لگایا ہوگا، اس کا مال کھایا ہوگا، اس کا خون بہایا ہوگا اور اس کو مارا ہوگا، تو اس کی نیکیوں میں سے اس کو بھی دیا جائے گا اور اس کو بھی دیا جائے گا اور اگر اس پر جو ذمہ ہے اس کی ادائیگی سے پہلے اس کی ساری نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہوں کو لے کر اس پر ڈالا جائے گا، پھر اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
(صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2581)

کیا آپ کو ناکامی سے ڈر نہیں لگتا؟ ابوسنان الاسدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إذا كان طالب قبل أن يتعلم مسألة في الدين يتعلم الوقيعة في الناس؛ متى يفلح؟
ترجمہ: جب طالب علم دین کا کوئی مسئلہ سیکھنے سے پہلے علماء پر طعن کو سیکھے گا تو کیسے کامیاب ہوگا؟
(ترتیب المدارک ط اوقاف المغرب: 4/104)

مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ مالک بن دینار رحمہ اللہ کے قول کے مصداق نہ ہو جائیں! انہوں نے فرمایا تھا:
كَفَى بِالْمَرْءِ شَرًّا أَنْ لَا يَكُونَ صَالِحًا، وَهُوَ يَقَعُ فِي الصَّالِحِينَ
ترجمہ: آدمی کے برا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ خود نیک نا ہو اور نیک لوگوں کی عیب جوئی (اور غیبت) کرے۔
(شعب الایمان للبیہقی ط الرشد: 9/121، حدیث نمبر: 6358)

کیا آپ کو اس کی سنگینی کا اندازہ نہیں؟؟؟ ذرا امام احمد بن اذرعی رحمہ اللہ کے قول پر بھی غور فرما لیں:
الوقيعة في أهل العلم ولا سيما أكابرهم من كبائر الذنوب
ترجمہ: اہل علم کی مذمت و توہین خاص طور سے انکے اکابر کی، کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ 
(الرد الوافر لابن ناصر الدین الدمشقی: 283)

اور امام ابن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
من استخف بالعلماء ذهبت آخرته،
ترجمہ: جس نے علماء کی توہین کی اسکی آخرت برباد ہو گئی۔
(سیر اعلام النبلاء للذھبی: 8/408)

جناب مجھے آپ کا یہ دوھرا رویہ پسند نہیں آیا کہ جب کوئی یزید رحمہ اللہ پر سب و شتم اور طعن کرتا ہے تو آپ ”تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ“ (یہ جماعت تو گزر چکی، جو انہوں نے کیا وه ان کے لئے ہے اور جو تم کرو گے تمہارے لئے ہے۔ ان کے اعمال کے بارے میں تم نہیں پوچھے جاؤ گے۔) اور ”لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ“ (جو لوگ مر گئے ان کو برا نہ کہو) جیسے نصوص کو پیش کر کے ان کا دفاع کرتے ہیں جو کہ قابل تحسین عمل ہے لیکن آپ خود ان نصوص کو بھلا کر ایک فوت شدہ عالم پر طعن کر رہے ہیں؟ ان پر سب و شتم کرتے ہوئے ان سے محبت کا دعوی کرنے والوں کو ملعون مرزا غلام احمد قادیانی کے مقلدین کے مشابہہ قرار دے رہے ہیں؟ یہ کیسا عمل ہے؟ رکئے جناب مجھے آپ کی اس بات (بکواس) پر حیرت و افسوس کا اظہار کر لینے دیجئے کہ ایک اہل حدیث بھی اس طرح کی جرات کر سکتا ہے؟ اور یہاں مجھے ایک شعر بھی پڑھ لینے دیجئے کہ آپ اس کے مصداق نظر آتے ہیں:
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ

آپ ایک ایسے عالم جو کہ برصغیر کے نہیں ان کی باتوں کو بنیاد بنا کر نہ جانے کیسے کیسے الزامات کی بوچھار کر رہے ہیں اور خود بر صغیر کے علماء کے تعریفی اقوال کو فراموش کر بیٹھے ہیں؟
آپ کو اگر دو چار خطبے مل گئے تو آپ عالم نہیں بن گئے ہیں اور نہ آپ کچھ مناظرے کر کے مناظر ہو گئے ہیں کہ آپ ہمیں بتائیں کہ کون عالم کیسا ہے۔ یہ تو کبار علماء اور متخصصین کا میدان ہے وہ ضرورت سمجھیں گے تو کسی پر نقد کریں گے اور ضرورت محسوس نہیں کریں گے تو نہیں کریں گے۔
جناب! غلطی کس سے نہیں ہوتی ہے؟؟؟ بتائیں!!! کیا آپ سے غلطی کا صدور نہیں ہوتا؟؟؟ اگر ہاں اور یقینا ہاں تو کیا غلطی کی اصلاح لعن طعن اور سب و شتم کر کے کی جاتی ہے؟؟؟ وہ بھی کسی کی وفات کے بعد؟؟؟؟ جناب یہ کام آپ علماء پر چھوڑ دیں اور خود کو ایسے کام کا مکلف نا بنائیں جس کے آپ مکلف نہیں!
یاد رکھیں آپ کا ہر ہر عمل ریکارڈ ہو رہا ہے۔ لہذا رب تعالی کے حضور جواب دہی کے احساس کو زندہ کریں اور اپنے اوقات کو مفید سرگرمیوں میں لگائیں اور علماء خصوصا کبار علماء پر زبان درازی سے گریز کریں۔

آخر میں جو اس طرح ہر کسی کی باتوں کو اہمیت دے کر اس کو اس کے مقصد میں کامیاب کرتے ہیں ان لوگوں سے گزارش ہے کہ اس طرح کے لوگوں کی باتوں کو اہمیت نہ دیا کریں ایسے لوگوں کے طعن سے کسی عالم کی عزت نہیں گھٹتی۔ ایسے لوگوں کو اگر آپ اہمیت نہیں دیں گے تو دوچار لفظ بول کر خود ہی خاموش ہو جائیں گے۔
بڑا افسوس ہوا یہ دیکھ کر کہ ہمارے اخوان دفاع کرتے ہوئے گالیوں سے جواب دے رہے ہیں۔ اور کچھ اخوان تو رد کرنے کے اتنے حریص ہوتے ہیں کہ کوئی بھی شخص کچھ کہتا ہے فورا نام لے کر سوشل میڈیا پر رد کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یاد رکھیں یہ رد وغیرہ علماء کا کام ہے آپ کا نہیں۔ علماء کو مناسب لگے گا تو کسی کی تردید کریں گے وگرنہ نہیں۔ اور یہ بھی نہ بھولیں کہ علماء دور اندیش ہوتے ہیں۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
الفتنةُ إذا أقبلت عرفها كل عالم، وإذا أدبرت عرفها كل جاهل
ترجمہ: فتنہ جب سر اٹھاتا ہے تو ہر عالم اسے پہچان لیتا ہے، اور جب چلا جاتا ہے تو جاھل کو پتہ چلتا ہے کہ یہ فتنہ تھا۔
(التاریخ الکبیر للبخاری: 4/322، طبقات ابن سعد: 9/166)