Saturday, October 20, 2018

نبی ﷺ نے کس رنگ کا عمامہ پہنا ہے اور عمامہ پہننے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟​

نبی ﷺ نے کس رنگ کا عمامہ پہنا ہے اور عمامہ پہننے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟​


سوال: نبی ﷺ نے کس کس رنگ کا عمامہ پہنا ہے اور عمامہ باندھنے کا سنت طریقہ کیا ہے؟

جواب: میرے علم كے مطابق نبی ﷺ نے دو رنگ كے عمامے پہنے ہیں۔
کالا عمامہ:
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ
“جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ فتح كے دن مکہ میں داخل ہوئے تو آپ (كے سر مبارک) پر کالے رنگ کا عمامہ تھا۔“
(صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1358)

اور ایک دوسری روایت میں ہے:
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطَبَ النَّاسَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ
”نبی ﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیا اس حال میں کہ آپ (كے سر مبارک) پر کالے رنگ کا عمامہ تھا۔“
(صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1359)

سفید عمامہ:
مستدرک حاکم کی ایک لمبی حدیث میں ہے:
وَأَصْبَحَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَدِ اعْتَمَّ بِعِمَامَةٍ مَنْ كَرَابِيسَ سَوْدَاءَ، فَأَدْنَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَقَضَهُ وَعَمَّمَهُ بِعِمَامَةٍ بَيْضَاءَ، وَأَرْسَلَ مِنْ خَلْفِهِ أَرْبَعَ أَصَابِعَ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ وَقَالَ: هَكَذَا يَا ابْنَ عَوْفٍ اعْتَمَّ
”اگلے دن صبح عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کالے رنگ کا عمامہ پہن کر تیار ہو گئے، نبی اکرم ﷺ نے ان کو اپنے قریب بلایا، ان کا کالا عمامہ اتار کر ان كے سر پر سفید عمامہ باندھ دیا اور پچھلی جانب چار انگلیوں كے برابر یا اس كے قریب قریب مقدار میں شملہ لٹکایا۔ پھر فرمایا: آئے ابن عوف! اس طرح عمامہ باندھتے ہیں۔“
(مستدرک حاکم طبع دار الکتب العلمیۃ: 4/582، حدیث نمبر: 8623)

اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے اور امام ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ مزید علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس کی سند کو حسن کہا ہے۔
(سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ: 1/218)

اس كے علاوہ میں عمامہ كے رنگ كے متعلق کوئی صحیح مرفوع روایت نہیں تلاش کر سکا۔ (واضح رہے کہ علماء نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ ان رنگوں كے علاوہ بھی استعمال کر سکتے ہیں)

اور جہاں تک عمامہ باندھنے كے طریقے کا تعلق ہے تو عمرو بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ، قَدْ أَرْخَى طَرَفَيْهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ
”جیسے میں (اب بھی) رسول اللہ ﷺ کو ممبر پر دیکھ رہا ہوں، آپ ﷺ (كے سر مبارک) پر کالا عمامہ ہے آپ ﷺ نے اُس كے دونوں کناروں کو اپنے دونوں کندھوں كے درمیاں (کمر کی طرف) لٹکایا ہوا ہے۔“
(صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1359)

اور ایک دوسری حدیث میں ہے:
عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اعْتَمَّ سَدَلَ عِمَامَتَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، قَالَ نَافِعٌ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَسْدِلُ عِمَامَتَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: وَرَأَيْتُ الْقَاسِمَ، وَسَالِمًا يَفْعَلَانِ ذَلِكَ
”جب نبی اکرم ﷺ عمامہ باندھتے تو اسے اپنے شانوں کے بیچ لٹکا لیتے۔ نافع کہتے ہیں: ابن عمر رضی الله عنہما اپنے عمامہ کو شانوں کے بیچ لٹکاتے تھے۔ عبیداللہ بن عمر کہتے ہیں: میں نے قاسم اور سالم کو بھی ایسا کرتے ہوئے دیکھا۔
(سنن ترمذی، حدیث نمبر: 1736، علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے)
واللہ اعلم بالصواب!

کتبہ عمر اثری

Thursday, October 11, 2018

صلاۃ الضحی: فضائل و احکام

صلاۃ الضحی: فضائل و احکام


تحریر: عمر اثری سنابلی​

قرآن و حدیث میں نوافل کی بہت زیادہ اہمیت و فضیلت ہے۔ یہ فرض نمازوں کے نقص کو پورا کرتی ہیں۔ (ابو داؤد: 864، ابن ماجہ: 1425۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے) ان کے ذریعہ درجات بلند ہوتے ہیں اور گناہ مٹا دئے جاتے ہیں۔ (صحیح مسلم: 488) ان کے ذریعہ جنت میں نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی رفاقت حاصل ہوتی ہے۔ (صحیح مسلم: 489) یہ گھر میں خیر و برکت کے نزول کا سبب (صحیح مسلم: 778) اور تقرب الی اللہ کا ذریعہ ہیں۔ (صحیح بخاری: 6502) انہیں نوافل میں سے ایک اہم نفل نماز ”صلاۃ الضحی“ ہے۔ اس مقالہ میں صلاۃ الضحی کے فضائل و احکام کو بیان کرنے کی سعی کی گئی ہے۔

صلاۃ الضحی کا حکم:
اس تعلق سے چھ موقف ذکر کئے گئے ہیں:
① یہ نماز مستحب ہے۔
② بغیر کسی سبب کے یہ مشروع نہیں۔
③ گھر میں دائمی طور پر پڑھنا مستحب ہے۔
④ اصلا مستحب نہیں۔
⑤ کبھی پڑھنا اور کبھی نہ پڑھنا مستحب ہے۔
⑥ یہ بدعت ہے۔

راجح: صلاۃ الضحی مستحب ہے۔ اسکی دلیل:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ حَتَّى أَمُوتَ: صَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَصَلَاةِ الضُّحَى، وَنَوْمٍ عَلَى وِتْرٍ
ترجمہ: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے میرے جانی دوست (نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے کہ میں ان کو نہ چھوڑوں حتی کہ مجھے موت آ جائے: ہر مہینہ میں تین دن روزے، صلاۃ الضحی اور وتر پڑھ کر سونا۔
(صحیح بخاری: 1178، صحیح مسلم: 721)

صلاۃ الضحی کے فضائل:
➊ یہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وصیت ہے۔ اسکی دلیل حدیث ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ ہے جو ابھی اوپر گزری ہے۔
نیز ابو درداء رضی اللہ عنہ سے بھی یہ روایت مروی ہے۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے اس کو صحیح مسلم میں ذکر کیا ہے:
أَوْصَانِي حَبِيبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ، لَنْ أَدَعَهُنَّ مَا عِشْتُ: بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَصَلَاةِ الضُّحَى، وَبِأَنْ لَا أَنَامَ حَتَّى أُوتِرَ
ترجمہ: میرے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی تلقین فرمائی ہے، جب تک میں زندہ رہوں گا ان کو کبھی ترک نہیں کروں گا: ہر ماہ تین دنوں کے روزے، چاشت کی نماز اور یہ کہ جب تک وتر نہ پڑھ لوں نہ سوؤں۔
(صحیح مسلم: 722)

امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وصية النبي صلي الله عليه وسلم لأبي الدرداء وأبي هريرة رضي الله عنهما تدل: على فضيلة الضحى، وكثرة ثوابه، وتأكده، ولذلك حافظا عليه ولم يتركاه
ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ابو درداء اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما کو وصیت کرنا صلاۃ الضحی کی فضیلت، اس کے کثرت ثواب اور تاکیدی عمل پر دلالت کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اس پر محافظت برتی اور اسے کبھی نہیں چھوڑا۔
(المفہم لما اشکل من تلخیص کتاب مسلم للقرطبی ط دار ابن کثیر: 2/359)

➋ صلاۃ الضحی بہت سارے صدقات سے کفایت کر جاتی ہے:
عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنْ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ؛ فَكُلُّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَيُجْزِئُ مِنْ ذَلِكَ رَكْعَتَانِ يَرْكَعُهُمَا مِنَ الضُّحَى
ترجمہ: حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ”صبح کو تم میں سے ہر ایک شخص کے ہر جوڑ پر ایک صدقہ ہوتا ہے۔ پس ہر ایک تسبیح (ایک دفعہ ”سبحان اللہ“ کہنا) صدقہ ہے۔ ہر ایک تحمید (الحمد للہ کہنا) صدقہ ہے، ہر ایک تہلیل (لا الہ الا اللہ کہنا) صدقہ ہے، ہر ایک تکبیر (اللہ اكبر کہنا) بھی صدقہ ہے۔ (کسی کو) نیکی کی تلقین کرنا صدقہ ہے اور (کسی کو) برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے۔ اور ان تمام امور کی جگہ دو رکعتیں جو انسان چاشت کی پڑھتا ہے، کفایت کرتی ہیں۔
(صحیح مسلم: 720)

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَجْزِي مِنْ ذَلِكَ رَكْعَتَانِ يَرْكَعُهُمَا مِنَ الضُّحَى ضَبَطْنَاهُ وَيَجْزِي بِفَتْحِ أَوَّلِهِ وَضَمِّهِ فَالضَّمُّ مِنَ الْإِجْزَاءِ وَالْفَتْحُ من جزى يجزئ أَيْ كَفَى وَمِنْهُ قَوْلُهُ تَعَالَى لَا تَجْزِي نَفْسٌ وَفِي الْحَدِيثِ لَا يَجْزِي عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى عِظَمِ فَضْلِ الضُّحَى وَكَبِيرِ مَوْقِعِهَا وَأَنَّهَا تَصِحُّ رَكْعَتَيْنِ
ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فرمان ”وَيَجْزِي مِنْ ذَلِكَ رَكْعَتَانِ يَرْكَعُهُمَا مِنَ الضُّحَى“ میں ”وَيَجْزِي“ کو پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ ”یاء“ پر ضمہ پڑھا جائے، ایسی صورت میں اسکا مطلب ہوگا: قائم مقام ہونا (یعنی یہ دو رکعتیں صدقہ کے قائم مقام ہو جائیں گے) یا پھر اس پر فتحہ پڑھا جائے، ایسی صورت میں اس کا مطلب ہوگا: کافی ہونا۔ اسی معنی میں اللہ کا فرمان ”لَا تَجْزِي نَفْسٌ“ اور نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ”لَا يَجْزِي عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ“ استعمال ہوا ہے۔ اور اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ صلاۃ الضحی کی بہت فضیلت ہے اور اس کا بڑا مقام ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ صلاۃ الضحی دو رکعتیں پڑھنا صحیح ہے۔
(المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج ط دار احیاء التراث العربی: 5/234)

➌ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس کے حریص تھے:
عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى أَرْبَعًا، وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ
ترجمہ: عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم صلاۃ الضحی چار رکعتیں پڑھتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ جس قدر چاہتا زیادہ (بھی) پڑھ لیتے۔
(صحیح مسلم: 719)

➍ صلاۃ الضحی ”اوابین“ کی صلاۃ ہے اور اس کی پابندی صرف ”اوابین“ ہی کرتے ہیں:
صلاة الضحى صلاة الأوابين
ترجمہ: صلاۃ الضحی اوابین کی صلاۃ ہے۔
(صحیح الجامع الصغیر وزیادتہ للالبانی ط المکتب الاسلامی: 2/712، حدیث نمبر: 3827)

ایک دوسری حدیث میں ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُحَافِظُ عَلَى صَلَاةِ الضُّحَى إِلَّا أَوَّابٌ
ترجمہ: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: صلاۃ الضحی کی پابندی صرف ”اواب“ ہی کرتا ہے۔
(صحیح ابن خزیمہ ط المکتب الاسلامی: 2/228، حدیث نمبر: 1224)

➎ جو صلاۃ الضحی کی چار رکعتیں ادا کرتا ہے اللہ جل شانہ اس کے لئے پورے دن کے لئے کافی ہوجاتا ہے، چنانچہ حدیث قدسی میں ارشاد ربانی ہے:
ابْنَ آدَمَ، ارْكَعْ لِي مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، أَكْفِكَ آخِرَهُ
ترجمہ: اے ابن آدم! تو دن کے شروع میں میرے لئے چار رکعتیں پڑھا کر، میں پورے دن تیرے لئے کافی ہوں گا۔
(سنن ترمذی: 475، علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس کو صحیح کہا ہے)

علامہ مبارکپوری رحمہ اللہ اس حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں:
مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ قِيلَ الْمُرَادُ صَلَاةُ الضُّحَى وَقِيلَ صَلَاةُ الْإِشْرَاقِ وَقِيلَ سُنَّةُ الصُّبْحِ وَفَرْضُهُ لِأَنَّهُ أَوَّلُ فَرْضِ النَّهَارِ الشَّرْعِيِّ، قُلْتُ: حَمَلَ الْمُؤَلِّفُ وَكَذَا أَبُو دَاوُدَ هَذِهِ الرَّكَعَاتِ عَلَى صَلَاةِ الضُّحَى وَلِذَلِكَ أَدْخَلَا هَذَا الْحَدِيثَ فِي بَابِ صَلَاةِ الضُّحَى (أَكْفِكَ) أَيْ مُهِمَّاتِكَ (آخِرَهُ) أَيِ النَّهَارِ۔ قَالَ الطِّيبِيُّ أَيْ أَكْفِكَ شُغْلَكَ وَحَوَائِجَكَ وَأَدْفَعُ عَنْكَ مَا تَكْرَهُهُ بَعْدَ صَلَاتِكَ إِلَى آخِرِ النَّهَارِ: وَالْمَعْنَى أَفْرِغْ بَالَكَ بِعِبَادَتِي فِي أَوَّلِ النَّهَارِ أُفْرِغْ بَالَكَ فِي آخِرِهِ بِقَضَاءِ حَوَائِجِكَ
ترجمہ: حدیث میں مذکور ”دن کے ابتدائی حصے“ سے مراد ایک قول کے مطابق صلاۃ الضحی ہے اور ایک قول کے مطابق صلاۃ اشراق ہے۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد فجر کی سنتیں اور فرض ہیں کیونکہ شرعی طور پر وہ دن کی پہلی فرض (نماز) ہے۔ میں (علامہ مبارکپوری رحمہ اللہ) کہتا ہوں کہ مولف (امام ترمذی) اور ابو داؤد رحمہما اللہ نے ان چار رکعتوں سے مراد صلاۃ الضحی ہی لی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو صلاۃ الضحی کے باب میں ذکر کیا ہے۔ حدیث کے الفاظ ”میں تمہیں کافی ہو جاؤں گا“ یعنی تمہاری ضروریات کو پورا کروں گا۔ اسی طرح ”آخری حصہ میں“ یعنی دن کے آخری حصہ میں۔ طیبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ میں تمہاری ضروریات اور حاجات کے لئے کافی ہو جاؤں گا، تمہاری چار رکعتوں سے فراغت کے بعد تمہیں پہنچنے والی ہر ناپسندیدہ چیز سے تمہارا دفاع کروں گا۔ یعنی میری عبادت کے لئے دن کے ابتدائی حصے میں تم وقت نکالو، میں دن کے آخری لمحے میں تمہاری حاجت روائی کر کے ذہنی اطمنان دوں گا۔
(تحفۃ الاحوذی بشرح جامع الترمذی للمباركفورى ط دار الفکر: 2/585)

➏ صلاۃ الضحی ایک عظیم غنیمت ہے:
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً، فَغَنِمُوا، وَأَسْرَعُوا الرَّجْعَةَ، فَتَحَدَّثَ النَّاسُ بِقُرْبِ مَغْزَاهُمْ، وَكَثْرَةِ غَنِيمَتِهِمْ، وَسُرْعَةِ رَجْعَتِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَقْرَبَ مِنْهُ مَغْزًى، وَأَكْثَرَ غَنِيمَةً، وَأَوْشَكَ رَجْعَةً؟ مَنْ تَوَضَّأَ، ثُمَّ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ لِسُبْحَةِ الضُّحَى، فَهُوَ أَقْرَبُ مَغْزًى، وَأَكْثَرُ غَنِيمَةً، وَأَوْشَكُ رَجْعَةً
ترجمہ: سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک لشکر بھیجا، پس انہوں نے غنیمت حاصل کی اور جلدی واپس لوٹ آئے، لوگوں نے اس غزوے میں (لڑائی کے) جلدی ختم ہو جانے، کثیر مقدار میں غنیمت حاصل کرنے اور ان کے جلدی واپس لوٹ آنے کے بارے میں باتیں کیں، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہاری اس چیز کی طرف رہنمائی نہ کردوں کہ جو غزوہ کے لحاظ سے نزدیک ہو، غنیمت کے لحاظ سے زیادہ ہو اور لوٹنے کے لحاظ سے بھی قریب ہو؟ جس نے وضو کیا، پھر چاشت کی نماز پڑھنے کے لئے مسجد گیا، وہ شخص غزوہ کے لحاظ سے نزدیک ہے اور زیادہ غنیمت والا اور جلدی لوٹنے والا ہے۔
(مسند احمد ط الرسالۃ: 6638، صحیح ابن حبان: 2526۔ مسند احمد کے محققین نے اس حدیث کو ”حسن لغیرہ“ کہا ہے۔ جبکہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے ”حسن صحیح“ کا حکم لگایا ہے)

➐ صلاۃ الضحی سے عمرہ کا ثواب حاصل ہوتا ہے:
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهِّرًا إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ، فَأَجْرُهُ كَأَجْرِ الْحَاجِّ الْمُحْرِمِ، وَمَنْ خَرَجَ إِلَى تَسْبِيحِ الضُّحَى، لَا يُنْصِبُهُ إِلَّا إِيَّاهُ، فَأَجْرُهُ كَأَجْرِ الْمُعْتَمِرِ، وَصَلَاةٌ عَلَى أَثَرِ صَلَاةٍ لَا لَغْوَ بَيْنَهُمَا كِتَابٌ فِي عِلِّيِّينَ
ترجمہ: ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے گھر سے وضو کر کے فرض نماز کے لئے نکلے، تو اس کا ثواب احرام باندھنے والے حاجی کے ثواب کی طرح ہے، اور جو صلاۃ الضحی کے لئے نکلے اور اسی کی خاطر تکلیف برداشت کرتا ہو تو اس کا ثواب عمرہ کرنے والے کے ثواب کی طرح ہے، اور ایک نماز سے لے کر دوسری نماز کے بیچ میں کوئی لغو کام نہ ہو تو وہ علیین میں لکھی جاتی ہے۔
(سنن ابی داؤد: 558، علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ”حسن“ قرار دیا ہے)

➑ یہ ایسے وقت میں ادا کی جاتی ہے جس وقت نماز کا مشاہدہ ہوتا ہے اور اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے:
صَلِّ صَلَاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَتَّى تَرْتَفِعَ؛ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ حِينَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ، ثُمَّ صَلِّ؛ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّى يَسْتَقِلَّ الظِّلُّ بِالرُّمْحِ
ترجمہ: صبح کی نماز پڑھو اور پھر نماز سے رک جاؤ حتیٰ کہ سورج نکل کر بلند ہوجائے کیونکہ وہ جب طلوع ہوتا ہے تو شیطان (اپنے سینگوں کو آگے کر کے یوں دکھاتا ہے جیسے وہ اس) کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کافر اس (سورج) کو سجدہ کرتے ہیں، اس کے بعد نماز پڑھو کیونکہ نماز کا مشاہدہ ہوتا ہے اور اس میں (فرشتے) حاضر ہوتے ہیں یہاں تک کہ جب نیزے کا سایہ اس کے ساتھ لگ جائے (سورج بالکل سر پر آجائے)۔
(صحیح مسلم: 832)

➒ صلاۃ فجر کی ادائیگی کے بعد سورج نکلنے تک اللہ کا ذکر کرنے، اس کے بعد دو رکعتیں ادا کرنے سے ایک حج اور ایک عمرے کا ثواب حاصل ہوتا ہے:
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ صَلَّى الْغَدَاةَ فِي جَمَاعَةٍ، ثُمَّ قَعَدَ يَذْكُرُ اللَّهَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَانَتْ لَهُ كَأَجْرِ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ۔ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَامَّةٍ تَامَّةٍ تَامَّةٍ
ترجمہ: انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز فجر جماعت سے پڑھی پھر بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتا رہا یہاں تک کہ سورج نکل گیا، پھر اس نے دو رکعتیں پڑھیں، تو اسے ایک حج اور ایک عمرے کا ثواب ملے گا۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: پورا، پورا، پورا، یعنی حج و عمرے کا پورا ثواب۔
(سنن ترمذی: 586۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ”حسن“ قرار دیا ہے)

علامہ مبارکپوری رحمہ اللہ اسکی تشریح میں لکھتے ہیں:
قَوْلُهُ (ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ) أَيْ بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ قَالَ الطِّيبِيُّ: أَيْ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَ أَنْ تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ قَدْرَ رُمْحٍ حَتَّى يَخْرُجَ وَقْتُ الْكَرَاهَةِ، وَهَذِهِ الصَّلَاةُ تُسَمَّى صَلَاةَ الْإِشْرَاقِ وَهِيَ أَوَّلُ صَلَاةِ الضُّحَى
ترجمہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ”پھر اس نے دو رکعتیں پڑھیں“ یعنی سورج طلوع ہونے کے بعد۔ طیبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ نیزے کے برابر سورج طلوع ہونے کے بعد جب مکروہ وقت ختم ہوگیا تو دو رکعتیں ادا کیں، اس نماز کو نماز اشراق کہا جاتا ہے جو کہ صلاۃ الضحی کی ابتدائی صورت ہے۔
(تحفۃ الاحوذی بشرح جامع الترمذی للمباركفورى ط دار الفکر: 3/194)

ظاہری تعارض اور تطبیق:
تعارض:
اوپر ذکر کی گئی تفاصیل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ صلاۃ الضحی ایک مستحب اور سنت موکدہ نماز ہے۔ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس کا اہتمام کیا ہے اور صحابہ کو بھی اس کی ترغیب دی ہے۔ لیکن صلاۃ الضحی ہی کے تعلق سے عائشہ رضی اللہ عنہا سے دو طرح کی روایات منقول ہیں۔ ایک میں اثبات ہے اور ایک میں نفی۔ اثبات کے متعلق حدیث گزر چکی ہے جس میں ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم صلاۃ الضحی چار رکعتیں یا جس قدر اللہ چاہتا ادا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم: 719) جبکہ نفی کی روایت بایں الفاظ مروی ہے:
عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ، وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ؛ خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ، فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں نے کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو چاشت کی نفل پڑھتے نہیں دیکھا، حالانکہ میں صلاۃ الضحی پڑھتی ہوں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کسی کام کو کرنا پسند فرماتے تھے لیکن اس ڈر سے کہ لوگ (بھی آپ کو دیکھ کر) وہ کام کریں گے اور (ان کی دلچسپی کی بنا پر) وہ کام ان پر فرض کر دیا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس کام کو چھوڑ دیتے تھے۔
(صحیح بخاری: 1128، صحیح مسلم: 718 واللفظ لہ)

اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا گیا کہ کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم صلاۃ الضحی پڑھتے تھے تو انہوں نے کہا:
لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ
ترجمہ: نہیں، الا یہ کہ باہر (سفر) سے واپس آئے ہوں۔
(صحیح مسلم: 717)

تطبیق:
اثبات و نفی کی روایات میں کوئی تعارض نہیں ہے کیونکہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے چاشت کی نماز کا اثبات اس خبر کی بنیاد پر کیا جو ان تک پہنچی تھی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم چار رکعات ادا کرتے تھے اور انہوں نے نفی اپنے نہ دیکھنے کی کی ہے یعنی انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو صلاۃ الضحی صرف اسی وقت پڑھتے ہوئے دیکھا تھا جب وہ باہر رہنے کے بعد (یعنی سفر سے) واپس آئے ہوں۔ اور جہاں تک عائشہ رضی اللہ عنہا کے اپنے فعل کا تعلق ہے کہ وہ صلاۃ الضحی پڑھتی تھیں تو یہ اس بنا پر تھا کہ انہیں صلاۃ الضحی کی فضیلت میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی احادیث پہنچی تھیں اور دوسرا یہ کہ انہیں یہ بھی معلوم ہو چکا تھا کہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم بھی چاشت کے نماز پڑھتے تھے۔
(مستفاد من سبل السلام: 3/60)

علامہ شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَغَايَةُ الْأَمْرِ أَنَّهَا أَخْبَرَتْ عَمَّا بَلَغَ إلَيْهِ عِلْمُهَا۔ وَغَيْرُهَا مِنْ أَكَابِرِ الصَّحَابَةِ أَخْبَرَ بِمَا يَدُلّ عَلَى الْمُدَاوَمَةِ وَتَأَكُّدِ الْمَشْرُوعِيَّةِ، وَمَنْ عَلِمَ حُجَّةً عَلَى مَنْ لَمْ يَعْلَمْ، لَا سِيَّمَا وَذَلِكَ الْوَقْتُ الَّذِي تُفْعَلُ فِيهِ لَيْسَ مِنْ الْأَوْقَاتِ الَّتِي تُعْتَادُ فِيهَا الْخَلْوَةُ بِالنِّسَاءِ
ترجمہ: خلاصہ یہ ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے علم کے مطابق خبر دی ہے حالانکہ ان کے علاوہ دیگر کئی اکابر صحابہ کی روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صلاۃ الضحی سنت مؤکدہ ہے اور اس پر دوام برتنی چاہئے اور جس کو علم حاصل ہے وہ اس پر حجت ہے جس کو علم حاصل نہیں۔ خاص طور پر یہ بات مد نظر رہے کہ صلاۃ الضحی ان اوقات میں نہیں پڑھی جاتی جن میں عموما عورتوں کے ساتھ خلوت ہوتی ہے۔
(نیل الاوطار للشوکانی ط دار ابن الجوزی: 5/222)

دکتور سعید بن علی بن وہف القحطانی رحمہ اللہ اپنی کتاب ”صلاۃ التطوع“ میں لکھتے ہیں:
وسمعت الإمام عبد العزيز بن عبد الله بن باز - رحمه الله - أثناء تقريره على بلوغ المرام، الحديث رقم 415 417 يقول: والجمع بين الروايات أن يقال: إن الإثبات كان أولاً ثم نسيت، أو أن النفي كان أولاً ثم ذكرت، وما أثبتت من حجة مقدم على ما نفت، كما لو كان عن صحابيين فالمثبت مقدم على النافي
ترجمہ: میں نے علامہ ابن باز رحمہ اللہ سے بلوغ المرام کی حدیث: 415-417 کی شرح کے دوران سنا تھا کہ ان روایات میں تطبیق اس طرح دی جا سکتی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پہلے اس نماز کے اثبات کی خبر دی پھر شاید وہ بھول گئیں یا یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے پہلے نفی کی ہو پھر انہیں یاد آگیا ہو۔ بہرحال اثبات نفی پر حجت ہے جیسا کہ اثبات اور نفی اگر الگ الگ صحابی سے مروی ھوتے تو ثابت کرنے والے کو نفی کرنے والے پر مقدم کیا جاتا۔
(صلاۃ التطوع: 95)

صلاۃ الضحی کا وقت:
سب سے پہلے یہ واضح کر دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ صلاۃ الضحی ہی صلاۃ اشراق اور صلاۃ اوابین ہے۔ اور صلاۃ الضحی کا وقت ایک نیزے کے برابر سورج کے بلند ہونے سے لے کر زوال آفتاب سے کچھ پہلے تک جاری رہتا ہے (تقريبا سورج طلوع ہونے كے پندرہ منٹ بعد سے ليكر نماز ظہر سے تقريبا دس منٹ قبل تک ہے) جیسا کہ حدیث عمرو رضی اللہ عنہ میں موجود ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
صَلِّ صَلَاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَتَّى تَرْتَفِعَ؛ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ حِينَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ، ثُمَّ صَلِّ؛ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّى يَسْتَقِلَّ الظِّلُّ بِالرُّمْحِ
ترجمہ: صبح کی نماز پڑھو اور پھر نماز سے رک جاؤ حتیٰ کہ سورج نکل کر بلند ہوجائے کیونکہ وہ جب طلوع ہوتا ہے تو شیطان (اپنے سینگوں کو آگے کر کے یوں دکھاتا ہے جیسے وہ اس) کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کافر اس (سورج) کو سجدہ کرتے ہیں، اس کے بعد نماز پڑھو کیونکہ نماز کا مشاہدہ ہوتا ہے اور اس میں (فرشتے) حاضر ہوتے ہیں یہاں تک کہ جب نیزے کا سایہ اس کے ساتھ لگ جائے (سورج بالکل سر پر آجائے)۔
(صحیح مسلم: 832)

جبکہ اس کا افضل وقت اس وقت ہے جب شدت گرمی سے اونٹ کے دودھ چھڑائے جانے والے بچوں کے پاؤں جلنے لگتے ہیں (اور علماء كرام نے اس كا اندازہ دن كا چوتھائى حصہ لگايا ہے، يعنى ظہر اور طلوع شمس كے مابين نصف وقت):
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ قُبَاءَ، وَهُمْ يُصَلُّونَ، فَقَالَ : صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ إِذَا رَمِضَتِ الْفِصَالُ
ترجمہ: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اہل قباء کے پاس تشریف لائے، وہ لوگ (اس وقت) نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے فرمایا: اوابین کی نماز اس وقت ہوتی ہے، جب (گرمی سے) اونٹ کے دودھ چھڑائے جانے والے بچوں کے پاؤں جلنے لگتے ہیں۔
(صحیح مسلم: 748)

جمہور کا مذہب افضل وقت کے متعلق یہی ہے۔ احناف، شافعیہ اور حنابلہ اسی کے قائل ہیں۔
اور اسی کو اگر اول وقت میں ادا کیا جائے تو اس کو نماز اشراق کہتے ہیں۔ گویا کہ صلاۃ الضحی اور اشراق کی نماز ایک ہی نماز ہیں یہ دو مختلف نمازیں نہیں۔

شيخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہيں:
صلاة الإشراق هي صلاة الضحى في أول وقتها
ترجمہ: اول وقت ميں چاشت كى نماز ادا كرنا ہی اشراق كى نماز كہلاتا ہے۔
(مجموع فتاوی ابن باز: 11/401)

کیا صلاۃ الضحی اور صلاۃ اوابین الگ الگ نمازیں ہیں:
صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ صلاۃ اوابین ہی صلاۃ الضحی ہے:
صلاة الضحى صلاة الأوابين
ترجمہ: صلاۃ الضحی اوابین کی صلاۃ ہے۔
(صحیح الجامع الصغیر وزیادتہ للالبانی ط المکتب الاسلامی: 2/712، حدیث نمبر: 3827)

ایک دوسری حدیث میں ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُحَافِظُ عَلَى صَلَاةِ الضُّحَى إِلَّا أَوَّابٌ
ترجمہ: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: صلاۃ الضحی کی پابندی صرف ”اواب“ ہی کرتا ہے۔
(صحیح ابن خزیمہ ط المکتب الاسلامی: 2/228، حدیث نمبر: 1224)

مزید حدیث میں صلاۃ اوابین (صلاۃ الضحی) کا وقت بھی بتایا گیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ قُبَاءَ، وَهُمْ يُصَلُّونَ، فَقَالَ : صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ إِذَا رَمِضَتِ الْفِصَالُ
ترجمہ: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اہل قباء کے پاس تشریف لائے، وہ لوگ (اس وقت) نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے فرمایا: اوابین کی نماز اس وقت ہوتی ہے، جب (گرمی سے) اونٹ کے دودھ چھڑائے جانے والے بچوں کے پاؤں جلنے لگتے ہیں۔
(صحیح مسلم: 748)

مذکورہ بالا احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صلاۃ الضحی اور صلاۃ اوابین ایک ہی نماز ہیں اور یہ ظہر سے پہلے ہی پڑھی جاتی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود کچھ لوگ مغرب کے بعد صلاۃ اوابین پڑھتے ہیں اور صلاۃ اوابین کو ایک مستقل نفل نماز قرار دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ مندرجہ ذیل روایات سے استدلال کرتے ہیں، جو کہ ضعیف ہیں:
پہلی روایت:
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ مَا بَيْنَ أَنْ يَنْكَفِتَ أَهْلُ الْمَغْرِبِ، إِلَى أَنْ يُثَوَّبَ إِلَى الْعِشَاءِ
ترجمہ: ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ صلاۃ الاوابین (کا وقت) اس وقت سے ہے جب نمازی مغرب کی نماز سے فارغ ہوں اور یہ عشاء کا وقت آنے تک رہتا ہے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ ط دار القبلۃ: 4/266، حدیث نمبر: 5973)

یہ موقوف روایت ضعیف ہے۔ کیونکہ اس میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے۔ جسے امام احمد بن حنبل اور ابو حاتم رحمہما اللہ نے ‘‘منکر الحدیث’’ قرار دیا ہے، نیز امام ابن معین، علی بن مدینی، ترمذی اور نسائی رحمہم اللہ وغیرہ نے بھی اس پر جرح کی ہے۔
(دیکھیں: تہذیب الکمال للمزی ط مؤسسۃ الرسالۃ: 29/104)

دوسری روایت:
عن ابن عباس قال: الملائكة لتحف بالذين يصلون بين المغرب والعشاء وهي صلاة الأوابين
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ فرشتے ان لوگوں کو گھیر لیتے ہیں جو مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھتے ہیں اور یہی صلاۃ اوابین ہے۔
(شرح السنۃ للبغوی ط المکتب الاسلامی: 3/474)

یہ روایت بھی قابل حجت نہیں ہے کیونکہ امام بغوی رحمہ اللہ نے اس روایت کو صیغہ تمریض سے بیان کیا ہے جو اس روایت کے ضعیف ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

تیسری روایت:
عن محمد بن المنكدر يرفعه إلى النبي صلى الله عليه وسلم: من صلى ما بين صلاة المغرب إلى صلاة العشاء، فإنها صلاة الأوابين
ترجمہ: محمد بن المنکدر رحمہ اللہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے مرفوعا بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جس نے مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھی تو یہ اوابین کی نماز ہے۔
(مختصر قیام اللیل للمروزی: 88)

یہ حدیث مرسل ہونے کی بنا پر ضعیف ہے۔
(تفصیل کے لئے دیکھیں، سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ: 4617)

چوتھی روایت:
عن ابن المنكدر وأبي حازم يقولان : ”تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ“ هي ما بين المغرب وصلاة العشاء، صلاة الأوابين
ترجمہ: ابن المنکدر اور ابو حازم رحمہما اللہ ”تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ“ کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس سے مراد مغرب اور عشاء کے درمیان کی نماز ہے (جسے) صلاۃ اوابین کہا جاتا ہے۔
(السنن الکبری للبیہقی ط دار الکتب العلمیۃ: 3/29، حدیث نمبر: 4750، شعب الایمان للبیہقی ط مکتبۃ الرشد: 4/478، حدیث نمبر: 2840، مختصر قیام اللیل للمروزی: 38)

اس کی سند میں ابن لہیعہ موجود ہیں جو کہ ”عبادلہ“ کے علاوہ کی روایت میں ضعیف ہیں۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ مغرب کے بعد صلاۃ اوابین کی ادائیگی نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔ بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ صلاۃ الضحی ہی صلاۃ اوابین ہے، جیسا کہ اوپر احادیث گزر چکی ہیں جو کہ صحیح ہیں۔ لہذا اس کے بالمقابل ضعیف روایات سے استدلال کرنا درست نہیں ہے۔ اسی لئے علماء کرام کی ایک جماعت نے مغرب اور عشاء کے درمیان صلاۃ اوابین کی ادائیگی کو غیر مشروع قرار دیا ہے اور یہ صراحت کی ہے کہ مغرب اور عشاء کے درمیان صلاۃ اوابین کی ادائیگی کی کوئی دلیل نہیں ہے۔

صلاۃ الضحی کی رکعات:
صلاۃ الضحی کی کم سے کم رکعات دو ہیں۔ اور اس میں چاروں فقہی مذاہب یعنی احناف، شافعیہ، مالکیہ اور حنابلہ کا اتفاق ہے۔ اس کی دلیل مندرجہ ذیل حدیث ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ؛ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى، وَأَنْ أُوتِرَ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ
ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھے ہر مہینے کی تین تاریخوں میں روزہ رکھنے کی وصیت فرمائی تھی۔ اسی طرح چاشت کی دو رکعتوں کی بھی وصیت فرمائی تھی اور اس کی بھی کہ سونے سے پہلے ہی میں وتر پڑھ لیا کروں۔
(صحیح بخاری: 1981، صحیح مسلم: 721)

ابن دقیق العید رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَفِي الْحَدِيثِ دَلِيلٌ عَلَى اسْتِحْبَابِ صَلَاةِ الضُّحَى، وَأَنَّهَا رَكْعَتَانِ، وَلَعَلَّهُ ذَكَرَ الْأَقَلَّ الَّذِي تَوَجَّهَ التَّأْكِيدُ لِفِعْلِهِ
ترجمہ: اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ صلاۃ الضحی مستحب ہے اور یہ کہ صلاۃ الضحی دو رکعات ہیں۔ ممکن ہے کہ آپ نے کم سے کم رکعات کا ذکر کیا ہے جو آپ کے فعل کی تاکید کو واضح کرتا ہے۔
(احکام الاحکام شرح عمدۃ الاحکام لابن دقیق العید ط عالم الکتب: 2/33)

اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے صلاۃ الضحی دو رکعت سے کم ثابت نہیں ہے۔
(شرح منتہی الارادات للبھوتی ط عالم الکتب: 1/249)

مزید یہ کہ شریعت اسلامیہ میں وتر کے علاوہ کسی اور نماز میں دو سے کم رکعات مشروع نہیں ہیں۔ لہذا ایک رکعت نفل کسی بھی نماز میں نہیں پڑھی جاتی ہے سوائے وتر کی نماز کے۔
(الشرح الممتع على زاد المستقنع لابن عثیمین ط دار ابن الجوزی: 4/84)

صلاۃ الضحی زیادہ سے زیادہ کتنی رکعت ہیں اس مسئلہ میں علماء کے کئی اقوال ہیں۔ ان میں سے تین اقوال زیادہ مضبوط ہیں۔
پہلا قول: صلاۃ الضحی کی زیادہ سے زیادہ رکعات آٹھ ہیں۔ یہ جمہور کا یعنی مالکیہ، شافعیہ (معتمد قول کے مطابق) اور حنابلہ کا مذہب ہے۔ ان کی دلیل:
أَنَّهُ لَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ بِأَعْلَى مَكَّةَ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى غُسْلِهِ، فَسَتَرَتْ عَلَيْهِ فَاطِمَةُ، ثُمَّ أَخَذَ ثَوْبَهُ فَالْتَحَفَ بِهِ، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ، سُبْحَةَ الضُّحَى
ترجمہ: جس سال مکہ فتح ہوا ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں، (اس وقت) آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مکہ کے بالائی حصے میں تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نہانے کے لئے اٹھے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ کے آگے پردہ کر دیا، پھر (غسل کے بعد) آپ نے اپنا کپڑا لے کر اپنے گرد لپیٹا، پھر آٹھ رکعتیں چاشت کی پڑھیں۔
(صحیح مسلم: 336)

وجہ استدلال: حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
مفہوم: آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فعل کے متعلق یہ سب سے زیادہ رکعات وارد ہیں اور عبادت میں اصل توقف ہے۔
(فتح الباری لابن حجر ط دار المعرفۃ - بیروت: 3/54)

دوسرا قول: صلاۃ الضحی کے رکعات کی کوئی حد متعین نہیں ہے۔ سید سابق رحمہ اللہ نے فقہ السنہ میں بعض اہل علم سے یہ قول نقل کیا ہے۔ لکھتے ہیں:
علماء کی ایک جماعت جن میں ابو جعفر طبری اور حلیمی بھی ہیں، اس بات کی قائل ہے کہ صلاۃ الضحی کی زیادہ سے زیادہ کوئی حد متعین نہیں ہے، شافعیہ کے رویانی اور ملیمی کا بھی اسی پر جزم ہے، عراقی شرح ترمذی میں کہتے ہیں: میں نے صحابہ و تابعین میں سے کسی سے منقول نہیں پایا کہ وہ اسے بارہ رکعات میں محدود کرتے ہوں۔ علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے بھی یہی کہا ہے۔
(فقہ السنہ لسید سابق: 1/208)

ابن جریر طبری، ابن باز اور ابن عثیمین رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں۔ اس رائے کے قائلین کے دلائل:
⓵ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں:
عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى أَرْبَعًا، وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ
ترجمہ: عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم صلاۃ الضحی چار رکعتیں پڑھتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ جس قدر چاہتا زیادہ (بھی) پڑھ لیتے۔
(صحیح مسلم: 719)

⓶ ایک لمبی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
صَلِّ صَلَاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَتَّى تَرْتَفِعَ؛ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ حِينَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ، ثُمَّ صَلِّ؛ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّى يَسْتَقِلَّ الظِّلُّ بِالرُّمْحِ
ترجمہ: صبح کی نماز پڑھو اور پھر نماز سے رک جاؤ حتیٰ کہ سورج نکل کر بلند ہوجائے کیونکہ وہ جب طلوع ہوتا ہے تو شیطان (اپنے سینگوں کو آگے کر کے یوں دکھاتا ہے جیسے وہ اس) کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کافر اس (سورج) کو سجدہ کرتے ہیں، اس کے بعد نماز پڑھو کیونکہ نماز کا مشاہدہ ہوتا ہے اور اس میں (فرشتے) حاضر ہوتے ہیں یہاں تک کہ جب نیزے کا سایہ اس کے ساتھ لگ جائے (سورج بالکل سر پر آجائے)۔
(صحیح مسلم: 832)

وجہ استدلال: پہلی حدیث (حدیث عائشہ) میں لفظ ”وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ“ اس بات پر دلالت کرتا ھے کہ اسکی کوئی حد متعین نہیں ہے۔ جبکہ دوسری حدیث (حدیث عمرو بن عبسہ) میں ”ثُمَّ صَلِّ“ کا لفظ اس پر دلیل ہے کہ صلاۃ الضحی کی کوئی حد نہیں ہے۔ جتنی چاہے انسان پڑھ سکتا ہے۔

تیسرا قول: احناف، بعض شافعیہ اور امام احمد رحمہ اللہ کی ایک روایت کے مطابق صلاۃ الضحی کی اکثر تعداد بارہ ہے۔ انکی دلیل:
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى الضُّحَى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بَنَى اللَّهُ لَهُ قَصْرًا مِنْ ذَهَبٍ فِي الْجَنَّةِ
ترجمہ: انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھیں، اللہ اس کے لئے جنت میں سونے کا ایک محل تعمیر فرمائے گا۔“
(سنن ترمذی: 473)

اس کی سند میں موسی بن فلاں بن انس نامی مجہول راوی ہے لہذا یہ روایت ضعیف ہے۔
(تفصیل کے لئے دیکھیں: تخريج مشكاة المصابيح: 1267)

علامہ نووی، الدمیاطی اور علامہ سیوطی رحمہم اللہ نے بھی اس روایت کو ضعیف کہا ہے۔

راجح قول: اس تعلق سے دوسرا قول (یعنی صلاۃ الضحی کی زیادہ سے زیادہ کوئی حد متعین نہیں ہے) راجح ہے جیسا کہ دلائل گزرے۔ رہا پہلا اور دوسرا قول تو وہ دونوں مرجوح ہیں کیونکہ پہلے قول کی دلیل کے برخلاف حدیث عائشہ اور حدیث عبسہ ہے جس میں زیادتی کی بات کہی گئی ہے۔ جبکہ دوسرے قول کی دلیل ضعیف ہونے کی وجہ سے قابل حجت نہیں۔

علامہ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وأقلها ركعتان، فإذا حافظت على ركعتين فقد أديت الضحى، وإن صليت أربعا أو ستا أو ثمانا أو أكثر من ذلك فلا بأس على حسب التيسير، وليس فيها حد محدود
ترجمہ: صلاۃ الضحی کی کم سے کم رکعات دو ہیں۔ اگر آپ نے دو رکعتوں پر محافظت برتی تو آپ نے صلاۃ الضحی ادا کر لی۔ اور اگر آپ نے بقدر آسانی چار، چھ، آٹھ یا اس سے زائد پڑھ لیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس میں کوئی حد متعین نہیں ہے۔
(مجموع فتاوی ابن باز: 11/399)

علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أقلها ركعتان، وأما أكثرها فلا حد لها، يصلي الإنسان نشاطه
ترجمہ: صلاۃ الضحی کی کم سے کم رکعات دو ہیں۔ رہی بات اکثر رکعات کی تو اس کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ انسان اپنی نشاط کے بقدر (جتنی چاہے) پڑھ سکتا ہے۔
(مجموع فتاوی و رسائل العثیمین: 14/305)

فتاوی اللجنہ الدائمہ میں ہے:
وأقلها ركعتان ولا حد لأكثرها والأفضل ألا يتجاوز بها الثمان ويسلم في كل ركعتين ولا ينبغي جمعهن بسلام واحد
ترجمہ: صلاۃ الضحی کم سے کم دو رکعات ہیں اور اس کی اکثر تعداد متعین نہیں ہے۔ افضل یہ ہے کہ آٹھ رکعات سے تجاوز نہ کیا جائے اور ہر دو رکعت میں سلام پھیرا جائے اور ایک سلام کے ساتھ سب کو جمع کرنا (یعنی ایک ہی سلام سے پڑھنا) مناسب نہیں ہے۔
(فتاوی اللجنہ الدائمہ: 6/145)


صلاۃ الضحی کے متعلق بعض اہم مسائل:
➊ کیا صلاۃ الضحی روزآنہ پڑھ سکتے ہیں؟

اگر کوئی صلاۃ الضحی روزآنہ پڑھتا ہے تو یہ عمل صحیح ہے۔ علامہ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
صلاۃ الضحی ہر دن (پڑھنا) مسنون ہے۔
(فتاوى نور على الدرب لابن باز: 10/399)

اور علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
والأظهر: أنها سُنَّة مطلقة دائماً
ترجمہ: راجح بات یہ ہے کہ صلاۃ الضحی مطلق طور پر دائمی سنت ہے۔
(الشرح الممتع على زاد المستقنع لابن عثیمین ط دار ابن الجوزی: 4/83)

➋ صلاۃ الضحی مسافر کے لئے مشروع ہے یا نہیں؟
صلاۃ الضحی مسافر کے لئے بھی مشروع ہے۔ چنانچہ فتاوی اللجنہ الدائمہ میں ہے:
چاشت کے نماز مسافر اور اس کے علاوہ (تمام لوگوں) کے لئے (پڑھنا) مستحب ہے۔
(فتاوی اللجنہ الدائمہ: 6/151)

➌ صلاۃ الضحی سری ہوگی یا جہری؟
علامہ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
صلاة الضحى سرية
ترجمہ: صلاۃ الضحی سری ہوگی۔
(فتاوى نور على الدرب لابن باز: 10/431)

➍ کیا صلاۃ الضحی ایک بار پڑھ لینے سے واجب ہو جاتی ہے؟
فتاوی اللجنہ الدائمہ میں ہے:
لا تلزمه سنة الضحى إذا صلاها مرة أو مرات، بل تبقى سنة كما كانت من قبل، لأنها نافلة وليست فريضة
ترجمہ: صلاۃ الضحی کی سنت واجب نہیں ہو جاتی اگر کوئی اسے ایک یا کئی بار پڑھ لے۔ بلکہ یہ سنت ہی باقی رہتی ہے جیسے پہلے تھی۔ کیونکہ وہ نفل ہے فرض نہیں۔
(فتاوی اللجنہ الدائمہ: 7/259)

➎ کیا صلاۃ عیدین اور صلاۃ استسقاء صلاۃ الضحی کی نیابت کرتی ہیں؟
اگر کوئی صلاۃ عیدین یا صلاۃ استسقاء ادا کرلے تو اس سے صلاۃ الضحی کفایت نہیں کرے گی۔ فتاوی اللجنہ الدائمہ میں ہے:
لا تنوب صلاة العيد أو الاستسقاء عن صلاة الضحى
ترجمہ: صلاۃ عید اور صلاۃ استسقاء صلاۃ الضحی کی نیابت نہیں کر سکتی ہیں۔
(فتاوی اللجنہ الدائمہ: 7/258)

Tuesday, July 24, 2018

علماء کرام سے تنفیر کا فتنہ—اسباب و علاج

علماء کرام سے تنفیر کا فتنہ—اسباب و علاج
تحریر: عمر اثری بن عاشق علی اثری

تاریخ شاہد ہے کہ دشمنان اسلام نے اسلام کو مٹانے کی ہر دور میں ہر ممکن کوشش کی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے انہوں نے مختلف اقسام کے حربوں کو اختیار کیا ہے۔ کبھی وہ قرآن و حدیث کی خدمت کے نام پر قرآن و حدیث میں دخل اندازی کرتے ہیں تو کبھی مسلمانوں کے افکار و نظریات کو دقیانوسی قرار دیتے ہوئے اپنے افکار و نظریات کو اپنانے کی تلقین کرتے ہیں اور کبھی مسلمانوں کے تعلیمی نظام کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں اور ان کے اذہان میں یہ فکر اور سوچ بٹھانے کی سعی کرتے ہیں کہ اگر آگے بڑھنا اور ترقی کرنا ہے تو ہمارے جدید نظام تعلیم کو اختیار کرو اور کبھی وہ اسلام مخالف منظم تحریکات چلاتے ہیں جو کہ بظاہر اسلام کے مفاد اور حق میں معلوم ہوتی ہیں لیکن درحقیقت وہ تحریکات اسلام کے بالکل منافی ہوتی ہیں۔ اسی طرح مسلمانوں کو اسلام کے متعلق شکوک و شبہات میں مبتلا کرتے ہیں اور اخوت اسلامی کی مقدس روح کو ناپاک کرنے کی سعی مذموم کرتے ہیں۔ افسوس تو اس وقت ہوتا ہے جب ان کے دام فریب میں آکر خود مسلمان اسلام مخالف عمل کرتے ہیں اور اس خوش فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ وہ دین کی بڑی خدمت کر رہے ہیں۔ اسلامی تعلیمات پر حملہ کرنے والے خواہ مسلمان ہوں اور مسلم خاندانی پس منظر رکھتے ہوں یا غیر مسلم ہوں اور غیر مسلم خاندانی پس منظر رکھتے ہوں سب کی خطرناکی اور زہرناکی قریب قریب یکساں نظر آتی ہے بلکہ بسا اوقات مسلم نام کے حامل افراد کی خطرناک کچھ زیادہ ہی سنگین ہوتی ہے۔
یہ تمام کوششیں دشمنان اسلام کو ناکافی لگیں کیونکہ انہیں علماء اسلام کے مقام و مرتبہ کا اعتراف تھا اور انہیں یہ معلوم تھا کہ جب تک مسلمانوں کا تعلق علماء حق اور علماء ربانیین سے بنا رہے گا وہ اسلام پر باقی رہیں گے۔ لہذا انہوں نے اپنے مذموم مقاصد کو بروئے کار لانے کی خاطر عام مسلمانوں کو وارثین انبیاء یعنی علماء حق سے دور کرنے کی سازشیں شروع کیں اور علماء کے تعلق سے لوگوں کے دلوں میں اس قدر نفرت اور دوری پیدا کی کہ وہ صحیح اسلام سے دور ہوگئے۔ نتیجتا ہر کس و ناکس نے دین میں دخل اندازی شروع کردی اور دین کی ایسی ایسی تشریحات کیں کہ اسلام کی شبیہ بگڑ کر رہ گئی۔ دین معاشرے، معیشت اور بازاروں سے نکل گیا اور دھیرے دھیرے گھروں سے بھی نکل کر مساجد و مدارس میں خستہ حالی کی زندگی جی رہا ہے۔ کبھی کبھار دینی اجلاس و کانفرنسوں میں اپنی رہی سہی شان کے ساتھ کسی شہر میں یا سوشل میڈیا پر کہیں نظر آجاتا ہے۔ ورنہ ایسا لگتا ہے کہ اب رخصت ہوا کہ تب رخصت ہوا۔
سادہ لوح عوام شعوری و غیر شعوری طور پر تعلیمات اسلامی سے برگشتہ ہونے لگے، الحاد و زندیقیت وغیرہ اپنا سر اٹھانے لگے اور اپنی تمام تر قوتوں کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ آور ہونے لگے۔ عیسائی مشنریز اور انگریزوں کی پیداوار اور انکی پروردہ قادیانیت بھی اپنے جامہ سے باہر آگئی اور مسلمانوں کو غربت، بے روزگاری اور زندگی کے دیگر مسائل کی آڑ لے کر دین سے پھیرنا شروع کر دیاـ سچ ہے:
ایک دو زخم نہیں سارا بدن ہے چھلنی
درد بے چارہ پریشاں ہے کہاں سے اٹھے

مختصر یہ کہ عوام نے علماء کو ناکارہ تصور کر لیا اور تمام علماء کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہوئے انکو علماء بنی اسرائیل کے مشابہ قرار دے دیا بلکہ کچھ ناعاقبت اندیشوں نے تو علماء کو فرقہ پرست، بزدل، جہنمی اور نہ جانے کیسے کیسے القاب سے نوازنا شروع کر دیا۔ علماء کی اہمیت ختم ہونے لگی اور جہلاء و متعالمین کا بول بالا ہونے لگا اور انھیں کو حقیقی دعاۃ اور مبلغین سمجھ لیا گیا۔ حالانکہ علماء کرام کی جماعت اس جہاں میں انبیاء کرام کے بعد سب سے افضل جماعت ہے۔ وہی تو اس امت کے محافظ ہیں، دین کی حفاظت و صیانت، تفسیر و تشریح اور دعوت و تبلیغ انھیں کی ذمہ داری ہے۔ انھیں کی بدولت ہی تو کتاب و سنت کا علم اس دنیائے فانی میں باقی ہے۔ چنانچہ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے:
إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا، ‏‏‏‏‏‏فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا
ترجمہ: اللہ ﷻ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ اس کو بندوں سے چھین لے۔ بلکہ وہ علم علماء کو موت دے کر اٹھائے گا۔ حتیٰ کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے، پھر ان سے سوالات کئے جائیں گے تو وہ بغیر علم کے فتوی دیں گے۔ لہذا وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔
(صحیح بخاری، حدیث نمبر: ١۰۰)

غور فرمائیں! نبی اکرم ﷺ نے علماء ربانیین کی وفات کو علم کا خاتمہ بتایا ہے۔ اور ایسا کیوں نہ ہو جب کہ علماء کرام ہی وہ ستارے ہیں جن کے ذریعہ جہالت کی تاریکی کو علم کی روشنی میں بدلا جا سکتا ہے۔ فرمان الہی ہے:
فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
ترجمہ: اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے پوچھو۔
(سورۃ النحل: ٤٣)

یہی وجہ ہے کہ خود نبی اکرم ﷺ نے علماء حق کو وارثین انبیاء قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ
ترجمہ: علماء انبیاء کے وارث ہیں۔
(سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: ٣٦٤١، سنن ترمذی، حدیث نمبر: ۲٦۸۲، سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: ۲۲٣، علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے)

علماء حق کے فضائل میں وارد نصوص سے اعراض:
علماء کی تحقیر و توہین اور ان پر لعن طعن کرنے والوں کو یہ اور اس طرح کی بے شمار نصوص جن میں علماء حق کے فضائل وارد ہوئے ہیں، ہضم نہیں ہوتیں یا شاید وہ جان بوجھ کر ان نصوص سے صرف نظر کرتے ہیں، لہذا انھیں صرف وہ نصوص نظر آتے ہیں جن میں علماء سوء کی مذمت وارد ہے اور انھیں نصوص کو بنیاد بنا کر وہ تمام علماء، خواہ وہ علماء حق ہوں یا علماء سوء، سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا شروع کر دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ روش اور طریقہ تو خوارج کا ہے کہ جو وعید کے نصوص کو لیتے ہیں اور وعد کے نصوص کا انکار کر دیتے ہیں۔ یا یہ طریقہ اہل ہوی کا ہے جو اپنے نفس کی اتباع میں اپنے مطلب کی باتوں کو لیتے ہیں جبکہ مخالف باتوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔

علماء پر فتووں کی پوچھار:
ان کے قدم یہیں تک رکے رہتے تو کچھ غنیمت بھی تھا لیکن ان لوگوں نے علماء کرام کی تذلیل و اہانت میں چار قدم آگے بڑھ کر ان پر فتوے بازی شروع کردی، لہذا کبھی وہ علماء کرام کو اللہ کے ڈر اور خوف سے عاری قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ اگر کوئی حقیقی معنیٰ میں اللہ سے ڈرتا ہے تو علماء حق ہی ہیں۔ فرمان الہی ہے:
إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ
ترجمہ: اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔
(سورۃ فاطر: ۲۸)

بھلا بتائیے! کیا علمائے کرام کے علاوہ اللہ سے کوئی نہیں ڈرتا؟ نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ اللہ سے ڈرنے والے تو بہت سارے لوگ ہو سکتے ہیں لیکن علماء کے ڈر اور خوف کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے اسی لئے اللہ رب العالمین نے ان کے ڈرنے اور خوف کھانے کی مثال دی ہے۔ 
کبھی وہ علماء کرام کو مذہبی منافرت پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے انہیں فرقہ پرست قرار دیتے ہیں اور وجہ یہ بتاتے ہیں کہ علماء رفع الیدین اور فاتحہ خلف الامام وغیرہ کی احادیث بیان کرتے ہیں۔ ان کی بیان کردہ وجوہات سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ علماء صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنا چھوڑ کر ”یہ بھی صحیح اور وہ بھی صحیح“ کا نعرہ لگانا شروع کر دیں۔ حالانکہ یہ قرآن و حدیث کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ قرآن و حدیث تو ہمیں یہ حکم دیتے ہیں کہ ہم قرآن وحدیث کے بالمقابل کسی کو ترجیح نہ دیں۔ اب اگر اس سے کسی کو لگتا ہے کہ مذہبی منافرت پھیلتی ہے اور لوگ فرقوں میں بٹتے ہیں تو اس کو اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ قرآن و حدیث بیان کرنے سے ہی اتحاد کی فضا قائم ہوتی ہے نہ کہ لوگوں کے افکار و آراء بیان کرنے سے۔ کیونکہ یہ دونوں چیزیں وحی الہی ہیں۔
اسی طرح کبھی وہ علماء کو بزدلی اور مصلحت پرستی کا طعنہ دیتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ علماء کرام بوقت ضرورت اور بقدر ضرورت اپنا حق ادا کرتے رہتے ہیں۔ البتہ وہ وقتی مصلحت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا کام کرتے ہیں۔ انہیں معاشرتی و حکومتی مصالح اور مفاسد کا بخوبی علم ہوتا ہے اسی لئے وہ احتیاط برتتے ہیں۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
الفتنةُ إذا أقبلت عرفها كل عالم، وإذا أدبرت عرفها كل جاهل
ترجمہ: فتنہ جب سر اٹھاتا ہے تو ہر عالم اسے پہچان لیتا ہے، اور جب چلا جاتا ہے تو جاھل کو پتہ چلتا ہے کہ یہ فتنہ تھا۔
(التاریخ الکبیر للبخاری: ٤/٣۲۲، طبقات ابن سعد: ۹/١٦٦)
ہم کیسے تیراک رہے ہیں جاکر پوچھو ساحل والوں سے
خود تو ڈوب گئے لیکن رخ موڑ دیا طوفانوں کا

علماء کی تحقیر اور ان پر طعن کا نقصان:
علماء کرام کا مذاق اڑانا اور ان پر طعن و تشنیع کوئی نئی بات نہیں۔ صدیوں سے یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ البتہ دور حاضر میں خصوصا سوشل میڈیا کے ذریعہ اس کا حیطہ عمل وسیع ہو گیا ہے۔ چنانچہ اس کے اثرات پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کئے جاتے ہیں۔ لہذا علماء کو تمسخرانہ انداز میں "ملا“ اور ”جاہل مولوی“ وغیرہ جیسے القاب سے پکارا جاتا ہے۔ حالانکہ علماء کرام کی توہین و تحقیر پر سخت وعیدیں وارد ہیں۔ چنانچہ علماء سے دشمنی اللہ سے جنگ ہے۔ حدیث قدسی میں فرمان الہی ہے:
مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ
ترجمہ: جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی اسے میری طرف سے اعلان جنگ ہے۔
(صحیح بخاری، حدیث نمبر: ٦٥۰۲)

اسکی تشریح میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
الْمُرَادُ بِوَلِيِّ اللَّهِ الْعَالِمُ بِاللَّهِ الْمُوَاظِبُ عَلَى طَاعَتِهِ الْمُخْلِصُ فِي عِبَادَتِهِ
ترجمہ: اللہ کے ولی سے مراد عالم باللہ (جو اللہ کی معرفت رکھتا ہو) ہے، جو اسکی اطاعت میں ہمیشگی اور دوام برتتا ہے اور اسکی عبادت میں مخلص ہے۔
(فتح الباری: ١١/٣٤۲)

اس کے علاوہ جو علماء کے حق کو نہیں پہچانتا اور ان کی توہین کرتا ہے وہ نبی ﷺ کے طریقہ پر نہیں۔ فرمان نبوی ہے:
ليس من أُمتي من لم يُجِلَّ كبيرَنا، ويَرحَمْ صغيرَنا، ويعرِفْ لعالمِنا
ترجمہ: جو شخص ہمارے بڑوں کی تعظیم نہیں کرتا، ہمارے چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا اور ہمارے علماء کی قدر نہیں کرتا وہ میری امت میں سے نہیں۔
(صحیح الترغيب للالبانی، حدیث نمبر: ١٠١)

علماء سلف نے بھی علماء کی توہین و تحقیر اور ان پر طعن و تشنیع سے ڈرایا ہے۔ چنانچہ امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وعلماء السلف من السابقين، ومن بعدهم من التابعين – أهل الخير والأثر، وأهل الفقه والنظر – لا يذكرون إلا بالجميل، ومن ذكرهم بسوء، فهو على غير السبيل
ترجمہ: سابقین علماء سلف اور ان کے بعد تابعین اہل خیر اور علم و فقہ والے ہیں، ان کا صرف ذکر جمیل کیا جائے گا اور جو انکا ذکر برے طریقہ سے کرتا ہے وہ راہ راست سے بھٹکا ہوا ہے۔
(شرح العقیدہ الطحاویہ بتحقیق الارنؤوط: ٧٤۰)

اور امام ابن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
من استخف بالعلماء ذهبت آخرته، ومن استخف بالأمراء ذهبت دنياه، ومن استخف بالإخوان ذهبت مروءته
ترجمہ: جس نے علماء کی توہین کی اسکی آخرت برباد ہو گئی اور جس نے امراء کی اہانت کی اسکی دنیا چلی گئی اور جس نے بھائیوں کی ناقدری کی اسکی مروءت ختم ہو گئی۔
(سیر اعلام النبلاء للذھبی: ۸/٤۰۸)

امام احمد بن اذرعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
الوقيعة في أهل العلم ولا سيما أكابرهم من كبائر الذنوب
ترجمہ: اہل علم کی مذمت و توہین خاص طور سے انکے اکابر کی، کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ 
(الرد الوافر لابن ناصر الدین الدمشقی: ۲۸٣)

مذکورہ بالا احادیث اور اقوال سلف سے ہمیں درس عبرت حاصل کرنا چاہئے، علمائے کرام کی توقیر و تکریم کرنی چاہئے اور ان کے بارے میں اپنی زبانوں کو لگام دینا چاہئے۔ اختلاف رائے رکھنے کا حق سب کو ہے لیکن اس کے کچھ حدود و قیود ہیں، لہٰذا شائستگی سے اختلاف رکھنے میں کوئی حرج نہیں لیکن بے ادبی، سطحیت اور تذلیل و حقارت کسی صورت میں جائز نہیں۔ یاد رکھیں! علماء پر بہتان لگانا، سنی سنائی باتوں کو ان کی طرف منسوب کرنا اور ہر محفل میں زبان درازی کرکے اپنے علمیت ظاہر کرنا بجز جہالت کے اور کچھ نہیں۔

ان حالات کے اسباب:
ان حالات کے اسباب بہت سے ہو سکتے ہیں، ان میں سے چند اہم اسباب کو میں قلمبند کرنے کی کوشش کرتا ہوں:
(١) علماء سو کی بدکرداریاں:
علماء سوء کی وجہ سے عوام نے علماء سے دوری بنانی شروع کر دی اور یہ سمجھ لیا کہ علماء تمام کے تمام بدکردار اور برے ہی ہوتے ہیں۔ یہی سوچ علماء سے تنفر کے پیچھے کار فرما ہے۔
(۲) علماء اور عوام کے درمیان دوری:
اعدائے اسلام کی سازشوں اور کچھ نام نہاد مسلمانوں کی بنا پر عوام نے علماء سے دوری اختیار کرلی اور علماء نے بھی عوام سے ربط و تعلق کی کوشش نہیں کی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ علماء عوام سے قربت کے ذرائع اختیار کرتے، لیکن بجز کچھ علماء کے اکثریت نے کوئی مناسب ذریعہ اور وسیلہ اختیار نہیں کیا اور آج حالت یہ ہوگئی ہے کہ فیس بک اور واٹس ایپ کے دلدادہ علماء کے پاس عوام کے لئے وقت ہی نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ نوجوانان ملت اسلامیہ کی ذہن سازی علمائے حق کی بجائے اہل مغرب اور مغربی تہذیب کے مقلد افراد کر رہے ہیں۔

(٣) سوشل میڈیا:
ستم ظریفی یہ ہے کے عوام کے پاس ایک تو علم دین کی کمی ہے، دوسرے جو کچھ ہے وہ بھی سوشل میڈیا کی دین ہے جو بدعات و خرافات، سازشوں اور غلط فہمیوں کی ملاوٹ کا شکار ہے۔ اس کی وجہ اور سبب کافی حد تک خود علماء کا رویہ ہے۔ انہوں نے عوام کی تربیت اور ذہن سازی پر دھیان دینا ترک کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کے عوام نے سوشل میڈیا ہی کو حصول علم دین کا ذریعہ بنا لیا اور مساجد و مدارس سے تعلق ختم کرلیا اور سوشل میڈیا سے رطب و یابس ہر چیز علم دین کے نام پر حاصل کرنا شروع کر دیا۔
(٤) حصول علم میں احتیاط نہ کرنا:
اگر بچوں کا کسی اسکول میں داخلہ کرانا ہو تو اس کی خوب جانچ پڑتال کی جاتی ہے تاکہ بچوں کا مستقبل تابناک ہو سکے۔ اسی طرح علاج کرانے کے لئے اچھے سے اچھے ڈاکٹر کا انتخاب کیا جاتا ہے اور ”نیم حکیم خطرہ جان“ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے جھولا چھاپ ڈاکٹروں سے اجتناب کیا جاتا ہے تاکہ علاج صحیح ڈھنگ سے ہوسکے اور نقصان کے بجائے فائدہ ہو۔ لیکن بیچارہ دین اتنا ارزاں اور حقیر ہو گیا ہے کہ لوگ دین کا علم کسی سے بھی حاصل کر لیتے ہیں اور آج یہی ہو رہا ہے، لہذا امت مسلمہ حصول علم دین کے سلسلے میں احتیاط کو پرے رکھتے ہوئے ہر کس و ناکس سے دین کا علم حاصل کر رہی ہے۔ اور جب ہر کس و ناکس سے علم دین کا حصول ہوگا تو ظاہر سی بات ہے فساد و بگاڑ اس امت کا مقدر بن جائے گا۔ چنانچہ ”علم دین کسی سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے“ اور ”حق جہاں سے ملے لے لینا چاہئے“ اسی طرح ”جو حق ہو اسے لے لو باقی کو چھوڑ دو“ جیسے پر فریب نعرے آج امت مسلمہ خصوصا نوجوانان ملت کے خاصے بن چکے ہیں۔ حالانکہ ہمارے اسلاف کا یہ طریقہ نہیں رہا ہے۔ چنانچہ ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ دِينٌ، فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ دِينَكُمْ
ترجمہ: یہ علم، دین ہے، لہذا دیکھ لو کہ تم کن لوگوں سے اپنا دین اخذ کرتے ہو۔
(مقدمہ صحیح مسلم)

اور امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ هُوَ لَحْمُكَ وَدَمُكَ، وَعَنْهُ تُسْأَلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَانْظُرْ عَنْ مَنْ تَأْخُذُهُ
ترجمہ: یہ علم تمہارا گوشت اور خون ہے، اس کے بارے میں قیامت کے دن تم سے سوال کیا جائے گا، لہذا دیکھ لیا کرو کہ اسے کس سے حاصل کر رہے ہو؟
(مؤطا امام مالک بتحقیق الاعظمی: ١/۲٥، المحدث الفاصل لرامہرمزی: ٤١٦)

امام مالک رحمہ اللہ کا ہی ایک دوسرا قول ہے، فرماتے ہیں:
إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ دِينٌ فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ دِينَكُمْ لَقَدْ أَدْرَكْتُ سَبْعِينَ مِمَّنْ يَقُولُ: قَالَ فُلَانٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْأَسَاطِينِ، وَأَشَارَ إِلَى مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا أَخَذْتُ عَنْهُمْ شَيْئًا، وَإِنَّ أَحَدَهُمْ لَوْ أُؤْتُمِنَ عَلَى مَالٍ لَكَانَ بِهِ أَمِينًا لِأَنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا مِنْ أَهْلِ هَذَا الشَّأْنِ، وَيَقْدِمُ عَلَيْنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ فَيُزْدَحَمُ عَلَى بَابِهِ
ترجمہ: یہ علم، دین ہے لہذا دیکھ لیا کرو کہ تم کس سے اپنا دین لے رہے ہو، میں نے ستّر لوگوں کو اللہ کے نبی ﷺ کی مسجد میں ستون کے پاس یہ کہتے ہوئے پایا کہ فلاں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لیکن میں نے ان سے کچھ نہ لیا، جبکہ وہ سب سب اس قدر امین تھے کہ اگر انہیں مال پر نگراں مقرر کر دیا جاتا تو وہ امانت دار نکلتے لیکن وہ اس فن کے اھل نہ تھے۔ (ان کے بالمقابل) محمد بن شہاب الزہری رحمہ اللہ جب ہمارے پاس تشریف لاتے تو ان کے دروازے پر ہجوم لگ جایا کرتا۔
(الفقیہ والمتفقہ علیہ: ۲/١۹٤)

بلکہ ہمارے اسلاف حصول علم دین میں احتیاط نہ کرنے کی بنا پر ہاتھ تک اٹھا دیا کرتے تھے۔ چنانچہ خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
رَأَى ابْنَهُ عِنْدَ قَاصٍّ، فَلَمَّا رَجَعَ اتَّزَرَ وَأَخَذَ السَّوْطَ وَقَالَ : أَمَعَ الْعَمَالِقَةِ! هَذَا قَرْنٌ قَدْ طَلَعَ
ترجمہ: انھوں نے اپنے بیٹے کو ایک قصہ گو کے پاس دیکھا۔ جب وہ گھر لوٹے تو ازار باندھا اور کوڑا لیکر اپنے بیٹے کو یہ کہ کر پیٹنے لگے کہ کیا عمالقہ کے ساتھ بیٹھتے ہو، یہ ایجاد کردہ بدعت ہے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ: ١٣/٣٦۲، حدیث نمبر: ۲٦٧۲١)

ذرا سوچیں اور غور و فکر کرنے کے بعد اپنے دل سے پوچھیں کہ کیا یہ زمانہ خیرالقرون سے بہتر ہے؟ یا من جملہ اس زمانے کے لوگ خیرالقرون کے لوگوں سے بہتر ہیں؟ اگر اس کا جواب آپ کو نفی میں ملے اور حقیقت ایسی ہی ہے تو اللہ کے واسطے اسلاف کے طریقہ اور منہج پر چلیں اور ہر کس و ناکس سے علم دین کے حصول سے بچتے ہوئے صرف ان لوگوں سے علم دین حاصل کریں جن کے علم کی گواہی اور جن کا تزکیہ علماء حق نے کیا ہو۔ یہی تعلیم عبد الرحمن بن یزید بن جابر رحمہ اللہ نے دی ہے۔ فرماتے ہیں:
لا يؤخذ العلم إلا عمن شهد له بالطلب
ترجمہ: علم اس شخص سے حاصل کیا جائے جس کے متعلم ہونے کی اہل علم نے گواہی دی ہو۔
(الکفایۃ للخطیب: ١/٣٧٥)

یاد رکھیں! اس امت میں خیر علماء حق سے ہی علم حاصل کرنے میں ہے۔ چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا أَخَذُوا الْعِلْمَ عَنْ أَكَابِرِهِمْ وَعَنْ أُمَنَائِهِمْ وَعُلَمَائِهِمْ فَإِذَا أَخَذُوهُ مِنْ صِغَارِهِمْ وَشِرَارِهِمْ هَلَكُوا
ترجمہ: لوگ ہمیشہ خیر پر رہیں گے جب تک وہ اپنے بڑوں، امین لوگوں اور علماء سے علم حاصل کریں گے۔ اور جب وہ اپنے چھوٹوں اور برے لوگوں سے علم حاصل کریں گے تو ہلاک ہو جائیں گے۔
(الفقیہ والمتفقہ علیہ: ۲/١٥٥، جامع بیان العلم وفضلہ: ١/٦١٦، حدیث نمبر: ١۰٥٧، نصیحۃ اہل الحدیث للخطیب: ٢٩، حدیث نمبر: ۸)

اسی ضمن میں یہ فتنہ بھی آتا ہے کہ علم دین کے حصول میں علماء کو چھوڑ کر صرف اور صرف انٹرنیٹ اور کتابوں پر تکیہ کر لیا گیا ہے۔ اس بیماری میں خاص طور سے امت کے نوجوان مبتلا ہیں۔ جو لوگ صرف کتابوں سے علم حاصل کرتے تھے اسلاف اسے ”صحفی“ کہا کرتے تھے اور ان سے علم دین حاصل کرنے سے منع کرتے تھے۔ چنانچہ سلیمان بن موسی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
لَا تَأْخُذُوا الْعِلْمَ مِنَ الصَّحَفِيِّينَ
ترجمہ: صحفی لوگوں سے علم حاصل مت کرو۔
(الفقیہ والمتفقہ علیہ: ۲/١۹٣)

شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ نے اصول ثلاثہ کی شرح میں کتنی خوبصورت بات کہی ہے:
قوله: ثلاث مسائل: التعلم هنا معناه: التلقي عن العلماء والحفظ والفهم والإدراك، هذا هو التعلم، ليس المراد مجرد قراءة أو مطالعة حرة كما يسمونها هذا ليس تعلما إنما التعلم هو: التلقي عن أهل العلم مع حفظ ذلك وفهمه وإدراكه تمامًا، هذا هو التعلم الصحيح، أما مجرد القراءة والمطالعة فإنها لا تكفي في التعلم وإن كانت مطلوبة، وفيها فائدة لكنها لا تكفي، ولا يكفي الاقتصار عليها۔
ولا يجوز التتلمذ على الكتب كما هو الواقع في هذا الوقت، لأن التتلمذ على الكتب خطير جدا يحصل منه مفاسد وتعالم أضر من الجهل، لأن الجاهل يعرف أنه جاهل ويقف عند حده، لكن المتعالم يرى أنه عالم فيحل ما حرم الله، ويحرم ما أحل الله، ويتكلم ويقول على الله بلا علم فالمسألة خطيرة جدا۔
فالعلم لا يؤخذ من الكتب مباشرة إنما الكتب وسائل، أما حقيقة العلم فإنها تؤخذ عن العلماء جيلًا بعد جيل والكتب إنما هي وسائل لطلب العلم۔
ترجمہ: شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کا قول: تین مسائل (یعنی اللہ ﷻ کی معرفت، رسول اللہ ﷺ کی معرفت اور دین اسلام کی معرفت) یہاں تعلم (علم حاصل کرنے) سے مراد علماء کرام سے علم حاصل کرنا، اسے حفظ کرنا، اس کا فہم و ادراک حاصل کرنا ہے۔یہی تعلیم ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ محض پڑھائی یا جس طرح نام دیا جاتا ہے ’’آزادانہ مطالعہ‘‘ (Self-studies) کیا جائے، یہ تعلم نہیں بلکہ تعلم تو یہ ہے کہ علماء کرام سے (علم) حاصل کیا جائے اس کے حفظ، فہم اور مکمل ادراک کے ساتھ، یہ ہے صحیح معنوں میں علم حاصل کرنا، جبکہ صرف خود کتاب پڑھنا اور مطالعہ کرنا اگرچہ مطلوب تو ہے مگر تعلم کے لئے کافی نہیں، اس میں فائدہ بھی ہے مگر یہ کفایت نہیں کرتا اور اس پر اقتصار کرنا کافی نہیں۔ کتابوں کا تلمذ اور شاگردی اختیار کرنا جائز نہیں جیسا کہ لوگوں کی موجودہ حالت ہے، کیونکہ کتابوں کا تلمذ اختیار کرنا بہت خطرناک ہے جس سے بہت مفاسد پیدا ہوتے ہیں اور یہ تعالم تو جہل سے زیادہ نقصان دہ ہے، کیونکہ جاہل جانتا ہے کہ وہ جاہل ہے لہذا وہ اپنی حد پر رک جاتا ہے، لیکن المتعالم (علم کا دعویدار) سمجھتا ہے کہ وہ عالم ہے لہذا وہ اللہ ﷻ کے حلال کردہ کو حرام اور حرام کردہ کو حلال قرار دیتا ہے اور اللہ ﷻ کے بارے میں بغیر علم کے بولتا اور کلام کرتا ہے لہذا یہ مسئلہ بہت خطرناک ہے۔ چنانچہ علم کتابوں سے براہ راست حاصل نہیں کیا جاتا بلکہ کتابیں تو وسیلہ ہیں، جبکہ حقیقی معنوں میں علم تو علماء کرام سے حاصل ہوتا ہے جو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتا رہتا ہے، اور کتابیں تو علم حاصل کرنے کے وسائل میں سے ہیں۔
(شرح الاصول الثلاثۃ: ٣١-٣۲)

(٥) غیر عالم دعاۃ کا تسلط اور غلبہ:
نبی ﷺ نے فرمایا تھا:
إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا، ‏‏‏‏‏‏فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا
ترجمہ: اللہ ﷻ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ اس کو بندوں سے چھین لے۔ بلکہ وہ علم علماء کو موت دے کر اٹھائے گا۔ حتیٰ کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے، پھر ان سے سوالات کئے جائیں گے تو وہ بغیر علم کے فتوی دیں گے۔ لہذا وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔
(صحیح بخاری، حدیث نمبر: ١۰۰)
آج کل رسول اللہ ﷺ کی پیشین گوئی حرف بہ حرف صادق آرہی ہے۔ لوگ چند کتابوں کا مطالعہ کر کے علماء کا لبادہ پہن کر سادہ لوح مسلمانوں کو غلط سلط باتیں بتا کر راہ حق اور صراط مستقیم سے برگشتہ کرتے ہوئے وقت کا علامہ بننے کے پرزور کوشش کر رہے ہیں۔ عوام بھی ان کا خوب ساتھ دے رہی ہے اور ان کو سراہتے ہوئے انہیں علماء سے زیادہ اہمیت دینے لگی ہے۔ انھیں عوام کی بدولت یہ منبر و محراب اور کانفرنسوں وغیرہ میں اپنا تسلط قائم کرنے لگے ہیں۔ ان کی شہرت اور چمک دمک کو دیکھتے ہوئے نوجوانان ملت بھی اسی راہ پر چل نکلے ہیں، لہذا آپ کو سوشل میڈیا پر خاص طور سے نام نہاد مبلغین و دعاۃ اور محققین و مفتیان کے القاب کے مصداق افراد مل جائیں گے جو بزعم خویش دین کی بہت بڑی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ چنانچہ آپ دیکھیں گے کہ جس نے بھی ایک دو کتابیں پڑھ لیں یا ایک دو لکچر سن لئے وہ گروپس، پیجز، بلاگس، ویب سائٹس اور یوٹیوب چینلز بناتا ہے اور قرآن و حدیث کی خود ساختہ تشریح کرتے ہوئے دین اسلام کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کرتا ہے، لہذا کوئی محقق دوراں بنتے ہوئے احادیث کی صحت و ضعف پر کلام کرتا ہے تو کوئی منسوخ جیسی احادیث کو بیان کر کے ان سے مسائل کا استنباط کرتا نظر آتا ہے۔ یہ دقیق مسائل ہوں یا غیر دقیق سب میں اپنی رائے دینے کو اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں اور جب تک دن میں دو چار فتوے نہ دے لیں اور مناظرے نہ کر لیں ان کو سکون نہیں ملتا۔ اتنا ہی نہیں مناظرہ کے نام پر گالی گلوچ کرنے کو بھی جائز سمجھتے ہیں۔ دعوت و تبلیغ کے نام پر نوجوان لڑکیوں سے ہنسی و دل لگی کو کار ثواب سمجھتے ہیں۔ ان کے قدم یہیں نہیں رکتے بلکہ وہ دوسروں کے مقالات و مضامین اور تحقیقات کو چرا کر اپنے بلاگس، ویب سائٹس اور گروپس میں اپنے نام سے شیئر کرتے ہیں اور لوگوں کی واہ واہی بٹورتے ہیں۔ یہ علماء کی ویب سائٹس اور یوٹیوب چینلز کو شیئر کرنے میں اپنی کسر شان سمجھتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ اگر کسی عالم کا لیکچر بھی شیئر کرتے ہیں تو خود کا یوٹیوب چینل بنا کر اس میں اپلوڈ کر کے شیئر کرتے ہیں۔ علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے قصّاص کی جو صفات بیان کی تھیں وہ ان کے اندر موجود نظر آتی ہیں۔ علامہ رحمہ اللہ نے فرمایا تھا:
وأكبر أَسبَابه أَنه قد يعاني هَذِه الصِّنَاعَة جهال بِالنَّقْلِ يَقُولُونَ مَا وجدوه مَكْتُوبًا وَلَا يعلمُونَ الصدْق من الْكَذِب فهم يبيعون على سوق الْوَقْت وَاتفقَ أَنهم يخاطبون الْجُهَّال من الْعَوام الَّذين هم فِي عداد الْبَهَائِم فَلَا يُنكرُونَ مَا يَقُولُونَ وَيخرجُونَ فَيَقُولُونَ قَالَ الْعَالم فالعالم عِنْد الْعَوام من صعد الْمِنْبَر
ترجمہ: اور اس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ اس فن میں ان لوگوں نے دخل اندازی کی جو نقلی دلائل سے عاری و جاہل ہوتے  ہیں۔ جو لکھا ہوا پاتے ہیں اسی کو یہ کہتے ہیں۔ صدق و کذب کی معرفت کی کسوٹی ان کے پاس نہیں ہوتی۔ یہ سوق وقت میں دینی خدمت کا کاروبار کرتے ہیں۔ اور (لوگوں کا) اتفاق ہے کہ یہ عام طور پر عوام میں سے ایسے جاہلوں کو مخاطب کرتے ہیں، جو چوپایوں کے قائم مقام ہوتے ہیں لہذا وہ ان کی غلطیوں پر نکیر نہیں کرتے اور یہ کہتے ہوئے نکلتے ہیں کہ عالم نے کہا۔ پس عوام کے نزدیک وہی عالم ہے جو منبر (اسٹیج) پر چڑھ گیا۔
(تحذیر الخواص للسیوطی: ۲٧٧-۲٧۸)

درحقیقت یہ وہی فتنہ ہے جسے ربیعہ بن ابو عبد الرحمان رحمہ اللہ نے امر عظیم قرار دیا تھا اور آنسو بہائے تھے:
قَالَ مَالِكٌ: أَخْبَرَنِيْ رَجُلٌ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَوَجَدَهُ يَبْكِي، فَقَالَ لَهُ: مَا يُبْكِيكَ؟ وَارْتَاعَ لِبُكَائِهِ فَقَالَ لَهُ: أَمُصِيبَةٌ دَخَلَتْ عَلَيْكَ؟ فَقَالَ: لَا، وَلَكِنِ اسْتُفْتِيَ مَنْ لَا عِلْمَ لَهُ وَظَهَرَ فِي الْإِسْلَامِ أَمْرٌ عَظِيمٌ، قَالَ رَبِيعَةُ: وَلَبَعْضُ مَنْ يُفْتِي هَا هُنَا أَحَقُّ بِالسَّجْنِ مِنَ السُّرَّاقٌِ
ترجمہ: مالک نے کہا کہ: مجھے ایک شخص نے خبر دی ہے، وہ ربیعہ بن ابی عبد الرحمن کے پاس آیا تو اس نے ان کو روتے ہوئے دیکھ کر پوچھا کہ آپ کو کس چیز نے رلایا؟ اور وہ ان کے رونے کی وجہ سے گھبرا گیا، لہذا اس نے ربیعہ رحمہ اللہ سے کہا کہ کیا کوئی مصیبت آن پڑی ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ نہیں! لیکن اس شخص سے فتوی پوچھا جارہا ہے جس کے پاس علم نہیں اور اسلام میں امر عظیم ظاہر ہو چکا ہے۔ ربیعہ رحمہ اللہ نے مزید فرمایا کہ یہاں بعض فتوی دینے والے ایسے ہیں جو چوروں کی بنسبت جیل کے زیادہ حقدار ہیں۔
(الفقیہ والمتفقہ للخطیب: ۲/٣۲٤، المعرفۃ والتاریخ: ١/٦٧۰، جامع بیان العلم و فضلہ: ٢/١۲۲٥، حدیث نمبر: ۲٤١۰ واللفظ لہ)

(٦) دین بیزاری:
سوشل میڈیا کے اس دور میں آزادی کا جو نعرہ بلند کیا گیا ہے لوگ اس سے اس قدر متاثر ہو گئے ہیں کہ دین پر عمل کو پابندی سمجھنے لگے ہیں، لہذا آئے دن سوشل میڈیا پر دین بیزاری کی نت نئی مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں اور اسی دین بیزاری کی ہی بنا پر علماء بیزاری وجود میں آئی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مہلک وبا کے علاج کا سامان کیا جائے۔ علماء کے مقام و مرتبہ اور ان پر طعن و تشنیع اور توہین کے گناہ کی سنگینی کو سمجھا جائے۔ معاشرہ پر مرتب ہونے والے برے اثرات کو زائل کرنے کی تدبیر کی جائے اور لوگوں کے دلوں میں علماء حق کے مقام اور ان کی عظمت کو راسخ کیا جائے۔ لوگوں کے مابین ان کی غلطیوں کو بیان کرنے سے احتراز کیا جائے اور یہ اعتقاد رکھا جائے کہ علماء بھی انسان ہی ہوتے ہیں بشری تقاضا کی بنا پر ان سے بھی غلطی ہو سکتی ہے۔ غلطی کی صورت میں ان کے لئے ایک اجر کی توقع کی جائے اور ان پر اعتماد کو برقرار رکھا جائے۔ ساتھ ہی ساتھ ان کے لئے عذر تلاش کیا جائے اور ان سے حسن ظن رکھا جائے۔ اسی طرح علماء کرام کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنا مقام سمجھیں اور دعوت حق کا کام کریں۔ جہاں غلطی ہو جائے اپنی اصلاح کریں اور عوام کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کریں۔